تحریر: مولانا خان زیب شہید
ترجمہ: محمد بلال یاسر
سائنس اور مادی ترقی کے بارے میں مسلمانوں کو جو فکری اور عملی مشکلات درپیش آئیں، ان کی ابتداء پندرھویں صدی سے ہوئی۔ اس وقت سلطنتِ عثمانیہ اپنے عروج پر تھی، مگر مغرب میں جب 1465ء میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوئی، تو 1503ء میں یہودی اسے استنبول لے آئے اور اپنے مذہبی کتابیں چھاپنے لگے۔ لیکن سولہویں صدی میں عثمانی سلطنت نے اس کافروں کی مشین سے قرآن یا سرکاری امور کی طباعت کی اجازت نہیں دی۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں مساجد میں گھڑیاں بھی بند کر دی گئیں، یہ کہہ کر کہ مؤذن کی توجہ بٹتی ہے۔
سلطنتِ عثمانیہ نے پریس مشین کے بجائے چالیس ہزار کاتب رکھے ہوئے تھے۔ یہ انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی رویّہ تھا۔ پہلا قرآن جو مشین سے چھاپا گیا، وہ 1537/38ء میں اٹلی کے شہر وینس میں شائع ہوا اور بعد میں ترکی لایا گیا۔ اسی طرح سائنس کی ایجاد لاؤڈ اسپیکر کے ساتھ بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا گیا۔ جب لاؤڈ اسپیکر 1925ء میں امریکہ میں ایجاد ہوا، تو مفتی تقی عثمانی کے بیان کے مطابق، فروری 1928ء میں مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی فتاویٰ مجموعۃ الفتاویٰ میں اس کے استعمال کے خلاف فتویٰ دیا تھا، مگر پچیس سال بعد یہ فتویٰ واپس لے لیا گیا۔ تصویر اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی آج تک فکری تشویش اور تذبذب موجود ہے۔
مرحوم علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ سائنس کی وہ روشنی اور ترقی جو دراصل مسلمانوں کی ہزار سالہ علمی محنت کے نتیجے میں قرطبہ، بغداد، غرناطہ اور سمرقند سے اُبھَرنی تھی، مسلمانوں کی بےحسی، غفلت اور علمی جمود کے باعث مغرب سے طلوع ہوئی۔ نتیجتاً پانچ سو سال بعد بھی مسلمان اپنے فکری ہم آہنگی اور ترقی میں پیچھے ہیں۔ آج ستاون مسلم ممالک ہیں، لیکن ترقی، ٹیکنالوجی اور علم میں وہ ایک غیر مسلم ملک جاپان کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔
سائنس اور مذہب کے اختلاف کی بنیاد دو بڑی وجوہات پر ہے۔ پہلی یہ کہ عیسائی کلیسا نے ہر سائنسی ایجاد کی مخالفت کی۔ کلیسا کے عقائد یونانی فلسفے پر مبنی تھے، اور جب سائنس نے نئے حقائق پیش کیے تو کلیسا اپنے نظریات میں تبدیلی نہ لا سکا۔ اس کے نتیجے میں غیر منطقی مخالفت سامنے آئی۔
اسلام میں کلیسا جیسا تضاد پندرھویں صدی سے پہلے نہیں تھا۔ اسلام کے بنیادی ماخذ قرآن و حدیث ، علم، سائنس، فکر اور عقل کی تعریف کرتے ہیں۔ لیکن کلیسائی اثرات بعد میں مسلمانوں پر بھی پڑے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مدارس کے نصاب میں وقت کے مطابق اصلاح اور جدت نہیں لائی گئی۔ اس وجہ سے جدید سائنسی تحقیقات کی تعلیم نہ دی جا سکی۔ آج بھی مدارس میں دو ہزار سال پرانی یونانی فلسفہ پڑھایا جاتا ہے، حالانکہ بطلیموس کے بہت سے نظریات جدید سائنس کے مطابق غلط ثابت ہو چکے ہیں۔
سید قطب فرماتے ہیں کہ کلیسا کی طرف سے سائنسی تحقیقات کی مخالفت ایک بڑی حماقت تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہر واعظ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر مختلف تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ نظر آتا ہے، مگر عوام میں آج بھی تصویر کو شرک کہا جاتا ہے۔ کسی نے اس بنیادی سبب پر غور نہیں کیا کہ اسلام میں مجسم تصویر کیوں حرام کی گئی تھی کیونکہ علت کی نفی، معلول کی نفی کو مستلزم ہوتی ہے۔ جس دین کی ابتدا "اقرأ" سے ہوئی، وہ سائنس کا مخالف نہیں ہو سکتا۔ مگر ہماری غلط تشریحات نے اسے تضادات میں الجھا دیا ہے۔
سائنس کا تعلق طبعی کائنات (physical world) سے ہے، جبکہ مذہب کا تعلق ماورائے فطرت (metaphysical world) اور انسانی اخلاقی رہنمائی سے۔
سائنس فطرت، مخلوقات اور موجودات کے حقائق پر بحث کرتی ہے، اور جو چیز وجود رکھتی ہے اسے تسلیم کرتی ہے۔ مذہب کا موضوع مافوق الفطرت حقیقتیں ہیں، مگر قرآن ، زمین، آسمان، چاند، سورج اور سمندروں کے مطالعے کی دعوت دیتا ہے۔ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یعنی کائنات کی تسخیر کی ترغیب دیتا ہے۔
سائنس کافر یا مسلمان نہیں ہوتی یہ محض ایک عملی اور عقلی تلاش ہے، جو مفروضوں سے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش ہے۔ سائنس انسانی تجربے، عقل، مشاہدے اور قیاس پر مبنی علم ہے، جبکہ مذہب خدا کی طرف سے عطا کردہ علم ہے۔ نبی انسانوں کے لیے اس الہی علم کے "شارح" اور "مفسر" ہوتے ہیں، اور قرآن قیاس و اجماع کی ترغیب دیتا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں کہ سائنس کو مذہب بنانا یا مذہب کو سائنس قرار دینا دونوں غلط ہیں۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسا دستور ہے جو انسان کی فلاح اور سماجی اصلاح کی تعلیم دیتا ہے۔
قرآن کہتا ہے "وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ" (یعنی: ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا، کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟۔ یہ آیت حیاتیاتی ارتقا کا ایک عظیم اصول پیش کرتی ہے، جس کی تشریح آج کی سائنس کرتی ہے۔
جارج سارٹن (George Sarton) کہتا ہے کہ مسلمانوں نے دسویں صدی میں سائنس کے میدان میں عظیم کارنامے انجام دیے الفارابی، ابو کامل، ابراہیم بن سنان، المسعودی، طبری اور فلسفے میں ابن خلدون افلاطون و ارسطو سے کم نہیں۔
علامہ طنطاوی فرماتے ہیں کہ قرآن میں تقریباً ساڑھے سات سو آیات ہیں جو عقل، فکر، تدبر، علم اور شعور کی دعوت دیتی ہیں۔ قرآن عقل والوں کو مخاطب بناتا ہے اور دنیا و آخرت کو لازم و ملزوم قرار دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ پندرھویں صدی کے بعد مسلمانوں نے تفکر اور تدبر کے اس پہلو کو ترک کر دیا، اور آج مسلمان علم و سائنس میں محض تماشائی بن گئے ہیں۔ نئے ایجادات کا نوے فیصد مغرب کی سرزمین پر ہو رہا ہے۔ مسلمان خوش ہیں کہ جب کوئی مغربی سائنس دان نئی چیز ایجاد کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو مسلمانوں نے پہلے کہا تھا لیکن خود کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے۔
ماضی میں یا آج تک، اکثر سائنس کی ہر ایجاد کو مذہب کی نظر سے دیکھا گیا، اور اسی سبب ریڈیو، ٹی وی، لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کی مخالفت کی گئی حالانکہ بعد میں یہی مخالفتیں غلط ثابت ہوئیں۔ اسی طرح قرآن سے ہر سائنسی نظریے کا ثبوت نکالنا بھی درست نہیں۔ قرآن سائنس کے خلاف نہیں، بلکہ دونوں مختلف دائرے رکھتے ہیں۔ سائنس مشاہدے اور تجربے سے ظاہر حقائق پر بات کرتی ہے، جبکہ مذہب غیب پر ایمان سکھاتا ہے۔
اسلام ہمیں ماورائے طبیعی حقائق کے ساتھ ساتھ مادی دنیا کے مطالعے کی بھی دعوت دیتا ہے۔ مگر انتہاپسندی اور تنگ نظری نے اس پہلو کو دبایا ہے۔
آج کے نوجوان اندلس، بغداد، دمشق، نیشاپور کے علمی ورثے سے واقف نہیں، اسی لیے اپنے کل کی بنیاد نہیں سمجھتے۔ ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی کی لائبریری کے "ایشیائی سیکشن" میں آج بھی مسلمانوں کے علمی مخطوطے محفوظ ہیں۔ سائنس کو عصری علم (Contemporary Knowledge) کہا جا سکتا ہے۔ مذہب خالق سے بحث کرتا ہے اور سائنس مخلوق اور اس کے نظام کی ساخت و ترکیب سے۔
آئن سٹائن کہتا ہے: “Science without religion is lame, and religion without science is blind.” (سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی، اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے۔) ہر الہامی مذہب ابتدا میں انسان دوستی، محبت اور خیر خواہی پر مبنی ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ مصنوعی روایتوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
سائنس اور نئی ایجادات کو مدینہ کے تعبیر النخل کے اصول پر دیکھنا چاہیے جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا کے کام تم خود بہتر جانتے ہو۔ ہر علم کا اپنا میدان ہے اور ہر فن کے لیے خدا نے اپنے لوگ پیدا کیے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا آخرت کی کھیتی ہے یعنی آخرت تب سنورے گی جب دنیا کو درست سمت میں سنوارا جائے۔
اسلام عقل و منطق کو جس طرح اہمیت دیتا ہے، یہ آیت اس پر واضح دلیل ہے۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ. (آلِ عمران) بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، رات دن کے بدلنے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور ایک اور مقام پر فرمایا۔ سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ۔ (حم السجدہ)
ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور ان کے نفسوں میں دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ یہ حق ہے۔"
احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو بنا سکتے ہیں پاژند