تحریر مولانا خان زیب شہید
ترجمہ: محمد بلال یاسر
پانچویں صدی ہجری کے مشہور عرب لغت کے امام راغب اصفہانی نے اپنی کتاب محاضرات الأدباء میں وطن کی محبت کے بارے میں آج سے تقریباً نو سو سال پہلے ایک نہایت قیمتی بات فرمائی ہے:
"لَولَا حُبُّ الْوَطَنِ لَخَرَبَتْ بِلَادُ السُّوء، وَقِيلَ: بِحُبِّ الْأَوْطَانِ عِمَارَةُ الْبُلْدَانِ"
یعنی: اگر وطن کی محبت نہ ہوتی تو خراب اور پسماندہ علاقے تباہ ہو جاتے، اور کہا گیا ہے کہ وطن کی محبت ہی شہروں کی آبادی و ترقی کا سبب ہے۔
اگر اپنے وطن سے محبت نہ ہوتی تو غریب اور پسماندہ ملک ہمیشہ ویران رہتے، لوگ بہتر جگہوں کی طرف چلے جاتے۔ لیکن وطن کی محبت اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے وطن میں کتنا ہی تنگدست ہو، تب بھی وہ دوسروں کے وطن میں جا کر خوش نہیں رہتا، بلکہ اپنے سادہ اور خستہ حال وطن کی یاد میں تڑپتا رہتا ہے۔
سعد اللہ جان برق کہتے ہیں کہ اگر پشتونوں کی نسلی تحقیق کی جائے تو کوئی کچھ بھی کہے، مگر انہیں بنی اسرائیل سے نہیں جوڑا جا سکتا، کیونکہ یہود ہمیشہ اپنے وطن سے دور جلاوطن رہے ہیں، جبکہ پشتون ہمیشہ اپنی سرزمین پر جمے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو ادب کی صنف "ٹپہ" میں زیادہ تر وطن کی محبت اور جدائی کے درد سے بھری شاعری ملتی ہے، کیونکہ وطن سے دوری ان کے فطری مزاج کے خلاف ہے۔
کچھ لوگ، جیسے اقبال لاہوری کے بعض اقوال کی غلط تعبیر کرنے والے، لاعلمی میں وطن سے محبت کو شرک کہتے ہیں۔ مگر درحقیقت اسلام نے وطن کی بڑی قدر و منزلت بیان کی ہے۔ فقہا لکھتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں وطن ایک ہی حقیقی وطن ہوتا ہے، اور وطن کی محبت انسانی فطرت کا حصہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو مکہ معظمہ سے فرمایا: "اے مکہ! تو کتنا پاکیزہ اور محبوب وطن ہے، اور اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور نہ رہتا۔" (سنن ترمذی)
ایک اور روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ کسی سفر سے واپس مدینہ کی طرف آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی، تو آپ اپنی سواری کو تیز فرما دیتے، گویا شوق سے جلدی مدینہ پہنچنا چاہتے۔ (بخاری)
حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں فرمایا: "اس حدیث میں مدینہ منورہ کی فضیلت اور وطن کی محبت و اس کی یاد کو شرعاً پسندیدہ عمل ہونے کی دلیل موجود ہے۔"
پس ہر نبی نے جب اپنے وطن سے ہجرت کی، تو وہ اپنے وطن کو غم و افسوس کے ساتھ چھوڑا — کیونکہ وطن کی محبت دلوں میں اللہ کی طرف سے ودیعت کی گئی ایک فطری جذبہ ہے۔