تحریر: محمد عبداللہ خان، کمیونیکیشن سیکشن، محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ
جیل خانہ جات عدالتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔جیل کا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانا ہے۔ دنیابھر میں جیلوں کو متعدد مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ان میں قیدیوں کی زیادہ تعداد کے باعث گنجائش سے تجاوز، محدود طبی اور تعلیمی سہولیات، اور اصلاحی پروگرامزکی کمی شامل ہیں۔کئی ممالک جیلوں کو جدید بنانے، ڈیجیٹل مینجمنٹ سسٹمز متعارف کروانے، عملے کی استعداد کار بڑھانے، اورقیدیوں کے لئے فنی تربیتی کورس پر زور دے رہے ہیں۔
پاکستان میں جیل خانہ جات طویل عرصے سے مسائل کا شکار ہیں۔ان مسائل کو حل کرنے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان، یحییٰ آفریدی نے نیشنل جیل ریفارمز پالیسی کا اعلان کیا، جس کا مقصدجیلوں کو جدید بنانا اور انہیں بین الاقوامی معیارات جیسے کہ نیلسن مینڈیلا قواعد، بیجنگ قواعد، اور بنکاک قواعد کے مطابق ڈھالنا ہے۔
یہ پالیسی گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے، ان کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے، پروبیشن اور کمیونٹی سروس جیسے متبادل سزاؤں کو متعارف کروانے، اور فنی تعلیم وتربیت کے ذریعے اصلاحات لانے پر مرکوزہے۔انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں شفاف اورعالمی معیار و قوانین پر مبنی نظام قائم کیا جا سکے۔
خیبر پختونخوا میں ریاستی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ تقریباً 40 جیلوں، بشمول ضم شدہ اضلاع میں، پرزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (PMIS) نافذ کیا گیا ہے، جو قیدیوں کے ریکارڈ، بیرک کی نشاندہی،ملاقاتوں کے نظام، عدالت کی حاضری، طبی خدمات کو بہتر بناتا ہے۔ جیل عملے کو سسٹم کے استعمال کی تربیت دی گئی اور آئی ٹی آلات بھی فراہم کئے گئے۔ عدالتی سماعتوں اورقیدیوں سے ملاقات کو آسان بنانے کیلئے اپلیکیشن بھی تیار کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ جیلوں کے حفاظتی نظام کو مظبوط کرنے، قیدیوں کی فلاح و بہبود، فنی تربیت میں بھی اصلاحات کی گئی ہیں۔ جیل خانہ جات کو عدالتی نظام سے مربوط کرنے سے دوران مقدمہ زیرِ حراست قیدیوں کی بر وقت رہائی ممکن ہوئی ہے۔ متعدد ورکشاپس اور پالیسی مباحثوں کے ذریعے صوبائی حکومت کی اصلاحات اور عدالتی نظام کے مابین ہم آہنگی قائم ہوئی ہے۔
مثبت پیش رفت کے باوجود، جیلوں میں بہتری لانے کی گنجائش ہے۔جس کے لئے بین الاقوامی اداروں کے تعاون اور پالیسی اصلاحات کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔تکنیکی معاونت کے ساتھ ساتھ قانونی اور انتظامی اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ جیل خانہ جات کے نظام کو مزید مؤثراور عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔