تحریر:۔ مولانا خان زیب شہید
اردو ترجمہ: محمدبلال یاسر
اسلام صرف باتوں کا نہیں، بلکہ عمل کا نام ہے۔ اگر صرف باتوں سے کام چلتا، تو منافق سب سے اچھا مسلمان ہوتا۔
امام قرطبی فرماتے ہیں کہ مدینہ میں منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی بن سلول رسولِ خدا ﷺ کے پیچھے پہلی صف میں کھڑا ہوتا تھا۔ بڑی داڑھی، بڑا عمامہ بھی سر پر ہوتا، مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ کی باتوں کی تائید بھی کرتا، مگر دل میں ایمان نہیں تھا، اور اس کے عمل میں اخلاص نہیں تھا۔
اس کی نمازِ جنازہ خود نبی کریم ﷺ نے ادا کی، مگر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ "میں اس شخص کو معاف نہیں کرتا"۔
ہماری پشتون سوسائٹی میں بھی جہالت اور ضد کی وجہ سے بے شمار معاشرتی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ یہ جھگڑے نہ امریکہ نے بنائے، نہ حکومت نے، نہ ہی کسی مسلح گروہ نے بلکہ یہ مصیبتیں ہمارے اپنے آپس کے اختلافات سے جنم لیتی ہیں۔
کئی دیہات اور بستیوں میں آپ دیکھو گے کہ عام راستے عوام کے لیے ہوتے ہیں، مگر گاؤں کے "حاجی صاحب" ان پر قبضہ جمائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ مسجد میں موجود رہتے ہیں، رائے ونڈ اجتماع کے بھی باقاعدہ شریک ہوتے ہیں، مگر کبھی سڑک پر جھاڑیاں اُگا دیتے ہیں، کبھی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں، کبھی راستہ بند کر دیتے ہیں۔ اگر گھر میں گندگی جمع ہو جائے تو اسے کسی کونے میں ڈالنے کے بجائے سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ نالے اور گلیاں گند سے بھری ہوتی ہیں، مگر حاجی صاحب کو وہ حدیث یاد نہیں رہتی کہ:
"الطَّهُورُ شَطْرُ الإِيمَان"
(پاکیزگی ایمان کا نصف ہے)
یہی حاجی صاحبان مکہ اور مدینہ کے مقدس ناموں کی آڑ میں ملاوٹ اور دھوکہ دہی کرتے ہیں۔
انہیں معاشرتی حقوق، اچھے برتاؤ، ہمسایہ داری اور انسانیت کی قدردانی میں کوئی اسلام نظر نہیں آتا۔ اگر گاؤں میں دو آدمی آپس میں لڑ جائیں تو یہ حاجی صاحب صلح کروانے کے بجائے جھگڑا بڑھا دیتے ہیں۔ اپنے محلے پر لاکھوں خرچ کر دیتے ہیں مگر اگر گھر کے دروازے کے باہر عام لوگوں کی گزرگاہ صاف کرنے یا مرمت کرنے کی بات ہو تو سو روپے خرچ کرنا بھی ان کو بوجھ لگتا ہے۔
دوسری طرف مغربی "کافر" ممالک کے لوگ اپنے اچھے اخلاق اور کردار کی بدولت اپنے ملکوں کو جنت جیسا بنا چکے ہیں۔ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ اخلاق اور معاملات کی درستگی کا بھی حکم دیتا ہے۔
اسی لیے حضرت عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے:
"کسی کے زیادہ نمازیں پڑھنے سے دھوکہ مت کھاؤ، اس کے باقی اعمال دیکھو!"
راستہ تنگ کرنا، سڑک پر کچرا پھینکنا، یا نقصان دہ چیز رکھنا یہاں تک کہ راستے میں بم رکھ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ایمان سے خالی ہونے کی علامت ہے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں، اور سب سے ادنیٰ شاخ یہ ہے کہ انسان راستے سے نقصان دہ چیز ہٹا دے۔"
پشتو کا ایک محاورہ ہے:
"مسجد گرا دو مگر راستہ کھلا رکھو!"