حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
موبائل اور اس کی جدتیں Home / بلاگز /

موبائل اور اس کی جدتیں

ایڈیٹر - 30/10/2025
موبائل اور اس کی جدتیں

تحریر: مولانا خان زیب شہید ۔ ترجمہ : محمد بلال یاسر

 



انسان خدا کی ایک شاہکار تخلیق ہے۔ اسی لیے قرآن میں خدا فرماتا ہے کہ میں نے انسان کو ہر مخلوق سے زیادہ خوبصورت شکل میں پیدا کیا ہے۔
لیکن انسان کی اصل خوبصورتی اس کے ظاہری چہرے میں نہیں بلکہ اس کے پاکیزہ کردار اور حسنِ اخلاق میں ہے۔

بلال حبشی رنگ میں سیاہ تھے اور ابو لہب سفید و سرخ رنگت کے مالک، مگر دونوں اپنی سیرت و کردار کی بنیاد پر تاریخ میں بالکل مختلف حیثیت سے یاد کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح حالیہ تاریخ میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور نیلسن منڈیلا سیاہ فام تھے، جبکہ میلازووچ (یوگوسلاویہ کا رہنما) اور جارج بش سفید فام۔ لیکن اگر انسانیت، شرافت اور اخلاقی اقدار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار کی بنیاد پر ان کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔

جب انگریز اس خطے پر قابض تھے، وہ سفید فام تھے، مگر مولانا محمود الحسن، گاندھی جی، باچا خان، ترنگزو بابا جی، اور غازی امان اللہ خان رنگ میں گندمی تھے۔ پھر بھی تاریخ کے عظمت کے پیمانے پر وہ انگریزوں سے کہیں زیادہ بلند اور عظیم مقام رکھتے ہیں۔ انسان چاہے کتنا ہی پاک سیرت کیوں نہ ہو، اس کے اندر کچھ فطری کمزوریاں موجود رہتی ہیں۔ ایک مال و دولت سے محبت اور دوسری خودنمائی اور شہرت کی خواہش۔ تصوف میں ان دو کمزوریوں کو حبِ مال اور حبِ جاہ کہا گیا ہے۔
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
گرچہ پڑتی ہے اس میں محنت زیادہ۔

خوش لباس، خوش گفتار، اور خوش کردار ہونا انسان کے اخلاق و مزاج کی معراج ہے۔ مگر خود پسندی (یعنی اپنے آپ پر فخر یا خود سے عشق کرنا) ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ اسی لیے تاریخ میں ہمیشہ اجتماعی کردار کو ذاتی خوبیوں پر ترجیح دی گئی ہے۔ ایک دن ایک شخص مجھ سے ملا۔ اس نے سونے کے بٹنوں والا واسکٹ پہنا ہوا تھا۔ میں نے نرمی سے کہا: “ناراض مت ہونا، مگر اتنا اسراف مناسب نہیں۔ اگر اللہ نے تمہیں مال دیا ہے تو اسے خرچ کرنے کے اور بھی بہت سے بہتر طریقے ہیں۔ (جیسا کہ پشتو میں کہا جاتا ہے: اگر سیخ سونے کا بھی بن جائے، تب بھی اسے جگر میں نہیں بھونتے!)”

وہ شخص کہنے لگا: “مجھے بس یہ اچھا لگتا ہے کہ میں دوسروں سے کچھ مختلف نظر آؤں۔” میں نے کہا: “مگر تم اس طرح مختلف نہیں، بلکہ عجیب اور ناپسندیدہ دکھائی دیتے ہو۔ انسان کو زندگی اور مرنے کے بعد پاکیزہ کردار، مردانگی، اور پشتونولی کے سبب یاد رکھا جاتا ہے — نہ کہ ظاہری خوبصورتی یا شان و شوکت کے باعث۔ اگر انسان کا مرتبہ صرف ظاہری حسن سے بلند ہوتا، تو مرنے کے بعد کیڑے اسے کیوں کھاتے؟”

اس نے پوچھا: “اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟” میں نے کہا: “اسلام یہ کہتا ہے کہ انسان کا بدن پاک ہونا چاہیے، اور اس کے کپڑے بھی پاک ہوں۔
یہ ضروری نہیں کہ روز نئی پوشاک پہنی جائے، یا کپڑوں میں سونے کے بٹن ہوں۔ پرانے کپڑے بھی اگر صاف ہوں تو بہتر ہیں۔ حتیٰ کہ گندی کپڑوں میں نماز پڑھنا بھی پسندیدہ نہیں۔
اسلام انسان کی فطری خوبصورتی اور جمالیاتی حس کے خلاف نہیں ہے۔
خدا خود خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ امام مالکؒ روزانہ نئی پوشاک پہنتے، مگر پرانے کپڑے کسی غریب کو دے دیتے۔
وہ سورہ اعراف کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ
(یعنی: اے نبی ﷺ کہہ دو! کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام ٹھہرایا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی، اور پاکیزہ رزق کو؟ کہہ دو کہ یہ دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہے اور قیامت کے دن صرف انہی کے لیے خاص ہوگی۔)

اسلام ہر قوم کے لباس کا احترام کرتا ہے، مگر لباس میں غرور، فخر یا تکبر نہیں ہونا چاہیے، اور انسان کو اپنے بدن کا ستر بھی ڈھانپنا چاہیے۔ اگر کسی کے کپڑوں کے بٹن سونے کے بھی ہوں، تب بھی وہ انسان ہی ہے، کوئی فرشتہ یا رنگین پروانہ نہیں بن جاتا۔ وہ شخص بولا:
“اللہ نے مجھے دولت دی ہے، یہ میرا اختیار ہے۔” یہ تحریر یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام سادگی، پاکیزگی، اور اعتدال کو پسند کرتا ہے — نہ فضول اسراف کو، نہ غرور کو۔ خوبصورتی اچھی چیز ہے، مگر وہ تبھی با معنی ہے جب اسے کردار اور اخلاق کے ساتھ جوڑا جائے۔

آج کل بعض نئے، نادیدہ (یعنی حال ہی میں دولت مند بنے ہوئے) لوگ نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ جب کسی سے ملاقات کرتے ہیں تو موبائل کا بڑا ماڈل ہاتھ میں نمایاں طور پر دکھا کر بیٹھتے ہیں — گویا فخر سے اپنی دولت کا اعلان کر رہے ہوں۔

یہ اکثر وہ بدذوق نیم متوسط مالدار لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے کچھ دولت جھوٹ اور دھوکے سے کمائی ہوتی ہے۔ ان کی اپنی ایک محدود دنیا ہوتی ہے؛ ان کے لیے دوسروں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ غریب و محتاج کو خیرات یا زکوٰۃ دینا تو درکنار، یہ ہمیشہ یہی سوچتے ہیں کہ اپنے مال و دولت کا دکھاوا کیسے کریں تاکہ لوگوں میں خود کو “خاص” ثابت کر سکیں۔

یقیناً موبائل ایک نعمت ہے، اور اس زمانے کی مفید ایجادات میں سے ایک ہے۔ مگر ہم پشتون عادتاً ہر چیز کا غلط ذائقہ بنا لیتے ہیں۔ لہٰذا فائدہ کی بجائے اس سے زحمت پیدا کرتے ہیں۔ ایک بار بشیر بلور شہید نے ایک صحافی سے کہا: “میں موبائل بالکل نہیں رکھتا۔” صحافی نے پوچھا: “کیوں؟”
بشیر بلور صاحب نے جواب دیا: “جب موبائل نہیں تھے، تب لوگ کیسے بات کرتے تھے؟”

موبائل کے بھی آداب ہوتے ہیں۔ بے وقت کسی کو کال نہ کرو۔ کسی کی اجازت کے بغیر بات ریکارڈ کرنا یا تصویر کھینچنا مناسب نہیں۔ جب کسی کو فون کرو تو پہلے اپنا تعارف کرو۔ اگر وہ پوچھے “کون بول رہے ہیں؟” تو یہ مت کہو “ارے، اب بھی نہیں پہچانا؟” سوشل میڈیا پر اگر کسی سے جان پہچان نہیں تو WhatsApp یا Messenger پر کال کرنا بہت غیر مہذب عمل ہے۔

اپنے سوشل اکاؤنٹس پر ہمیشہ اصلی تصویر رکھو، پھولوں، بچوں یا دوسروں کی تصویریں لگانا اکثر ناپختہ ذہن کی علامت ہے۔ اگر کسی تعلیم یافتہ، مصروف یا قلم کار سے بات کرنی ہو تو گفتگو مختصر اور مقصدی رکھو۔
بار بار "نور څنګه یې؟ نور څنګه یې؟" (یعنی “اور کیسے ہیں؟”) مت کہو۔ اگر طویل بات کرنی ہو تو پہلے پوچھ لو کہ “آپ کے پاس وقت ہے یا نہیں؟”

آج کل بہت سارے تعلیم یافتہ نوجوان بھی موبائل کے اداب کا خیال نہیں رکھتے۔ مگر نیم خواندہ یا عام لوگ اکثر اس بارے میں بے پرواہ ہیں۔

ایک دن میں ایک جرگے میں بیٹھا تھا، ایک شخص نے کال کی اور کہا:
“شیر عالم او میمونه کے بارے میں تھوڑی معلومات چاہیئے۔” میں نے کہا: “بھائی، سو بار کال کر چکے ہو، ذرا خیال کرو، جب کوئی فرصت میں ہو تب بات کرو۔” جو لوگ موبائل کا نمائش کرتے ہیں، وہ دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے اس بورژوا طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جن کے نزدیک انسانیت اور مردانگی کی کوئی پہچان نہیں۔

انہیں آج بھی یہ گمان ہوتا ہے کہ “میرا یہ نایاب موبائل ماڈل کسی اور کے پاس نہیں۔” لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جنہوں نے یہی ماڈل پرانا کر رکھا ہے مگر وہ اسے دکھاوے کے لیے سیدھا ہاتھ میں لے کر نہیں پھرتے۔ آج کا زمانہ فن اور آرٹ بن چکا ہے۔ جو لوگ عوام میں بیٹھتے اٹھتے ہیں، انہیں زندگی کے آداب پر سب سے زیادہ عبور ہونا چاہیے۔کیونکہ عوام انہی کو دیکھ کر سیکھتی ہے چاہے وہ اچھی بات ہو یا بری۔