حبیبالحسن یاد
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہ نہ صرف علم کی روشنی پھیلاتی ہے بلکہ انسانی وقار، برداشت اور باہمی احترام کا درس بھی دیتی ہے۔ لیکن جب تعلیمی ادارے، جو بچوں کے ذہن و کردار کو سنوارنے کے مراکز ہونے چاہییں، خود تشدد کا گہوارہ بن جائیں، تو یہ صرف تعلیم کی روح ہی نہیں بلکہ انسانی اقدار کی بھی توہین ہے۔
میں نے اپنی عملی زندگی میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کو ہمیشہ ایک بنیادی انسانی فریضہ سمجھا۔ اسی جذبے کے تحت میں نے سوسائٹی برائے تحفظ حقوق اطفال (SPARC) اور پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) جیسے معتبر اداروں کے پلیٹ فارم سے بچوں پر جسمانی تشدد کے خلاف جدوجہد کی۔ اپنے مشاہدے اور فیلڈ ورک کے دوران میں نے ایسے بے شمار واقعات دیکھے جن میں معصوم بچے تشدد کا شکار بن کر ذہنی و جسمانی صدمات سے دوچار ہوئے۔
نوّے کی دہائی میں، جب جسمانی سزا کو تعلیمی نظم و ضبط کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا، ہم نے چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ ایک بھرپور آگاہی مہم کا آغاز کیا۔ ہم نے مختلف تعلیمی اداروں، کمیونٹی سینٹرز، اور والدین کے اجتماعات میں یہ پیغام عام کیا کہ تشدد تعلیم نہیں، بلکہ بربادی کا آغاز ہے۔ اسی مقصد کے تحت میں نے "دی ڈان چلڈرن اکیڈمی" کے نام سے ایک سکول قائم کیا، جہاں بچوں کو خوف سے نہیں بلکہ محبت، رہنمائی اور اعتماد کے ذریعے تعلیم دی جاتی تھی۔ میں نے اس ادارے کو عملی مثال بنایا کہ تربیت کا بہترین ذریعہ پیار اور احترام ہے، نہ کہ سزا اور ڈانٹ ڈپٹ۔
ہماری طویل جدوجہد، مختلف تنظیموں کی کوششوں، اور پارلیمانی لابنگ کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی بار جسمانی سزا کے خلاف واضح قانون سازی ممکن ہوئی۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کا “Prohibition of Corporal Punishment Act 2021”، سندھ کا 2016ء کا قانون، اور پنجاب، خیبرپختونخوا، اور بلوچستان کے بچوں کے تحفظ کے قوانین نے اسکولوں میں جسمانی سزا کو قانونی طور پر ممنوع قرار دیا۔ یہ قانون سازی دراصل ایک ایسے معاشرتی رویے کے خلاف بغاوت تھی جو تشدد کو تربیت کا حصہ سمجھتا تھا۔
تاہم، یہ کہنا افسوسناک نہیں بلکہ شرمناک ہے کہ آج بھی پاکستان کے کئی اسکولوں اور مدارس میں جسمانی تشدد کا قبیح عمل جاری ہے۔ ایسے واقعات محض قانونی خلاف ورزیاں نہیں، بلکہ انسانی وقار اور بچوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہیں۔ جسمانی سزا بچوں کے ذہنوں میں خوف، نفرت اور احساسِ کمتری پیدا کرتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے نونہالوں کو خوف کے ماحول میں پروان چڑھائے، وہاں علم نہیں بلکہ اندھی تقلید اور جبر پنپتا ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ اس مہم کو زندہ کریں — نہ صرف قانون کی سطح پر بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی تبدیلی لائیں۔ اساتذہ، والدین، مذہبی رہنما، اور سول سوسائٹی کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ میڈیا اور تعلیمی اداروں کو بھی مثبت تربیت اور پرامن سیکھنے کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔
ایک محفوظ، محبت بھرا اور تشدد سے پاک تعلیمی ماحول صرف ایک قانون کا تقاضا نہیں، بلکہ ایک مہذب قوم کی پہچان ہے۔
اگر ہم واقعی ایک روشن اور پرامن پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں یہ یقین دہانی کرنی ہوگی کہ اسکول بچے کے لیے خوف کی نہیں، بلکہ اعتماد اور محبت کی جگہ ہو۔