حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"حالات بگڑ رہے ہیں، آئیں نیا میثاقِ جمہوریت کریں، یہ ملک کسی جرنیل کا نہیں"قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کا خطاب۔ Home / سیاست /

"حالات بگڑ رہے ہیں، آئیں نیا میثاقِ جمہوریت کریں، یہ ملک کسی جرنیل کا نہیں"قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کا خطاب۔

ایڈیٹر - 29/10/2026

اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا قومی اسمبلی میں دھواں دھار خطاب، ملک کو بچانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنے کی دعوت

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پر انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں برداشت کی قوت ختم ہو چکی ہے اور معاملات مسلسل بگاڑ کی طرف جا رہے ہیں، لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھیں اور ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک "نیا میثاقِ جمہوریت" مرتب کریں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ ملک کسی جرنیل کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے، اور پارلیمنٹ ہی عوام کا واحد نمائندہ ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کو تیار ہیں مگر تاریخ کے ہاتھوں مرنے کو تیار نہیں"۔

مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طاقت کے بل بوتے پر انتقالِ اقتدار کا عمل لایا گیا اور حکومت نے آئین کو غلط استعمال کیا۔ انہوں نے آرٹیکل 2-اے کو نظرانداز کرنے اور غیر سیاسی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا بلوچستان میں حالات خراب نہیں ہیں جہاں کمشنرز تک اغوا ہو جاتے ہیں؟ دفاعی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ دفاعی معاہدے کہیں اور ہو رہے ہیں جبکہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف یہاں بیٹھے ہیں اور تہران میں مذاکرات ہو رہے ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ "وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع یہاں پر ہیں، کیا کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے؟" جے یو آئی سربراہ کے اس جملے پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف مسکرا دیے اور ایوان میں قہقہے بلند ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ اگر حکومت ہمیں رسوا کرنا چاہتی ہے تو ہم حکومت کے ہاتھوں مرنا پسند کریں گے مگر تاریخ کے مجرم نہیں بنیں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے علاوہ، سربراہ جے یو آئی (ف) نے مجلس وحدت مسلمین (MWM) کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ ناصر عباس سے بھی ایک اہم ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور آل پارٹیز کانفرنس (APC) کے انعقاد سے متعلق تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے صرف اے پی سی ہی کافی نہیں بلکہ قومی سطح کی وسیع تر مشاورت ہونی چاہیے جس میں حکومت، اپوزیشن سمیت تمام صوبوں کے اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔ ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی اس ملاقات میں شرکت کی جہاں شرکاء نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے عوامی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے پی ٹی آئی کے گرفتار وزرائے اعلیٰ، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اراکینِ قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا پُر زور مطالبہ کیا۔