حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
قومی وسائل سودی ادائیگیوں کی نذر؛ وفاق کے پاس صرف 30 کھرب روپے باقی، سال 2030-31 تک حجم 100 کھرب ہونے کا خطرہ Home / پاکستان /

قومی وسائل سودی ادائیگیوں کی نذر؛ وفاق کے پاس صرف 30 کھرب روپے باقی، سال 2030-31 تک حجم 100 کھرب ہونے کا خطرہ

ایڈیٹر - 29/10/2026
قومی وسائل سودی ادائیگیوں کی نذر؛ وفاق کے پاس صرف 30 کھرب روپے باقی، سال 2030-31 تک حجم 100 کھرب ہونے کا خطرہ

اسلام آباد: ملکی مالیاتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی، مجموعی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی اخراجات سے بھی آگے نکل گئیں

پاکستان کا مالیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے جہاں ملک کے اندرونی و بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بیک وقت قومی دفاع اور ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق، قرضوں کے مجموعی حجم میں بے پناہ اضافے کے باعث رواں مالی سال کے دوران سود کی مد میں ریکارڈ 80 کھرب (8 ٹریلین) روپے کی ادائیگیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ صورتحال ملکی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے کیونکہ اندرونی اور بیرونی سود ہر سال پاکستان کی ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن کا ایک بہت بڑا حصہ نگل جاتا ہے۔ مروجہ مالیاتی تخمینوں کے مطابق، وفاق کے پاس ان بھاری سودی ادائیگیوں کے بعد تمام قومی امور چلانے کے لیے محض 30 کھرب روپے کا ریونیو باقی بچا ہے۔

معاشی ماہرین اور سرکاری دستاویزات کے مطابق، پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا یہ بلند حجم درمیانی مدت (Medium Term) میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث قومی وسائل کا بڑا حصہ پیداواری کاموں کے بجائے قرض اتارنے میں صرف ہوتا رہے گا۔ مالیاتی پیش گوئیوں کے مطابق، اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو مالی سال 2030-31 تک ملک میں سود کی سالانہ ادائیگیاں 100 کھرب روپے کی خطرناک حد کو چھو لیں گی۔ اس سنگین مالیاتی خسارے کو قابو کرنے اور آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت اب صوبوں کے ساتھ مل کر صوبائی خسارے کو کم کرنے اور کیش سرپلس بڑھانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے تاکہ وفاقی بجٹ کے اس بڑے مالیاتی سوراخ کو پُر کیا جا سکے۔