لندن: عالمی کشیدگی میں سنگین اضافہ، برطانیہ نے اپنی 4 میں سے 3 ایٹمی ڈیٹرنٹ آبدوزیں بیک وقت سمندر میں اتار دیں
برطانیہ نے گزشتہ پانچ برسوں میں پہلی مرتبہ اپنی اسٹریٹجک جوہری صلاحیتوں کا غیر معمولی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی 4 میں سے 3 جوہری ڈیٹرنٹ آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں تعینات کر دیا ہے۔ برطانوی میڈیا اور اسکائی نیوز کی رپورٹس کے مطابق، ان میں سے کم از کم ایک آبدوز جوہری وار ہیڈز لے جانے والے تباہ کن بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہے۔ بحرِ اوقیانوس اور بین الاقوامی پانیوں میں بھیجی جانے والی ان تین آبدوزوں کے نام ایچ ایم ایس وین گارڈ (HMS Vanguard)، ایچ ایم ایس ویجیلینٹ (HMS Vigilant) اور ایچ ایم ایس وینجنس (HMS Vengeance) بتائے گئے ہیں، جبکہ چوتھی آبدوز ایچ ایم ایس وکٹوریس (HMS Victorious) اس وقت مرمت کے طویل عمل سے گزر رہی ہے۔ رائل نیوی پر نظر رکھنے والے آزاد ادارے 'نیوی لک آؤٹ' کے مطابق، اگرچہ 1969 سے برطانیہ کی کم از کم ایک آبدوز مستقل سمندر میں تعینات رہتی ہے، تاہم بیک وقت تین آبدوزوں کی یہ پیش رفت انتہائی غیر معمولی ہے۔
یہ سیکیورٹی الرٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پچھلے ہفتے برطانوی اور فرانسیسی جنگی طیاروں نے تاریخ میں پہلی بار اپنی مشترکہ فضائی مشقیں کیں، جس میں فرانس کی فضائی جوہری صلاحیت کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ برطانوی 'آر اے ایف ٹائفون' جنگی طیاروں نے فرانسیسی بمبار طیاروں کو حفاظتی حصار فراہم کر کے ایک فرضی جوہری حملے کی مشترکہ مشق کی۔ اس غیر معمولی عسکری سرگرمی نے یہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا برطانیہ نے اپنے روایتی دفاعی مؤقف کو تبدیل کر دیا ہے؟
برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے معتبر اخبار 'دی ٹیلی گراف' میں لکھے گئے اپنے حالیہ مضمون میں ایک سنگین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو اگلے 1000 دنوں کے اندر ممکنہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جانا چاہیے۔ وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ 2030 تک ہمارے مخالفین کی عسکری طاقت اور جنگی معیشت انہیں حملہ کرنے کی پوزیشن میں لا سکتی ہے، لہذا یہ صورتحال ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لڑنے اور جیتنے کے لیے تیار ہونے کے لیے محض ایک ہزار دن کا وقت دیتی ہے۔
دوسری جانب، وزارتِ دفاع کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک کا جوہری ڈیٹرنٹ ہماری قومی سلامتی کی بنیاد ہے جو ہر لمحہ برطانیہ اور ہمارے نیٹو اتحادیوں کی حفاظت کرتا ہے، اور برطانیہ واحد یورپی ملک ہے جس نے نیٹو کے دفاع کے لیے اپنا جوہری پروگرام مختص کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے اس عسکری تیاری کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر ’بی ریڈی‘ (تیار رہیں) مہم کا بھی آغاز کر دیا ہے، جس میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سائبر حملے یا انفراسٹرکچر کی معطلی کے پیشِ نظر اپنے گھروں میں کم از کم تین دن کا کھانا، پانی، نقد رقم اور ریڈیو ذخیرہ کر لیں۔