حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بیرسٹر گوہر کا عمران خان کی رہائی کے لیے کسی بھی 'ڈیل' سے صاف انکار' کا تاثر سراسر غلط ہے Home / سیاست /

بیرسٹر گوہر کا عمران خان کی رہائی کے لیے کسی بھی 'ڈیل' سے صاف انکار' کا تاثر سراسر غلط ہے

ایڈیٹر - 29/10/2026
بیرسٹر گوہر کا عمران خان کی رہائی کے لیے کسی بھی 'ڈیل' سے صاف انکار' کا تاثر سراسر غلط ہے

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کسی بھی خفیہ ڈیل کے امکانات یکسر مسترد، بیرسٹر گوہر علی خان کی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے اہم گفتگو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کسی بھی قسم کی خفیہ ڈیل یا سمجھوتے کے تاثر کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ ملک میں متنازع قانون سازی سے مکمل گریز کیا جائے کیونکہ عجلت اور جلد بازی میں کی جانے والی قانون سازی ملکی نظام کو مزید سنگین بحرانوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کی امنگوں اور مرضی کے بغیر صوبوں کی تقسیم کا عمل ہرگز نہیں ہونا چاہیے، اور کسی بھی نئے صوبے کو بنانے کا فیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی پر منحصر ہے جس کے لیے قومی سطح پر اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

بیرسٹر گوہر نے گزشتہ روز منعقد ہونے والے پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اہم ترین اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس مسلسل 8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں ریکارڈ 170 اراکینِ قومی اسمبلی (MNAs) اور سینیٹرز نے بھرپور شرکت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ 28 ویں آئینی ترمیم ایجنڈے کا حصہ ضرور تھی، تاہم اجلاس کے دوران اس ترمیم پر نہ تو کوئی گہرا بحث مباحثہ ہوا اور نہ ہی کوئی حتمی فیصلہ یا تجویز سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی نے پی ٹی آئی کی موجودہ مرکزی قیادت پر مکمل اور متفقہ اعتماد کا اظہار کیا ہے اور قیادت کے اب تک کے کردار کو سراہا گیا ہے۔ مزید برآں، اجلاس میں سہیل آفریدی کے کردار کی تعریف کی گئی جبکہ دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) میں موجود اپوزیشن لیڈرز کی کارکردگی پر بھی مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور ہنگامی ایمرجنسی اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ سے جو آئینی اور انتظامی خلا پیدا ہوا ہے، اس پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اس آئینی خلا کو پُر کرنے کے لیے اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کرے گی، اور اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی کی جانب سے تیار کردہ خصوصی سفارشات اور تجاویز دونوں اپوزیشن لیڈرز کو باقاعدہ ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ آئندہ کی مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔