حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے Home / پاکستان /

مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے

ایڈیٹر - 26/10/2026
مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے

تہران: مکہ دفاعی معاہدے کے سہ فریقی اتحاد کا ایران کے ساتھ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک، حسبان میڈیا): مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، نو تشکیل شدہ "مکہ دفاعی معاہدے" کے بانی و کلیدی رکن ممالک—پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے—کے اعلیٰ ترین حکام آج ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی قیادت اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام سے ایک مشترکہ اور انتہائی حساس نوعیت کی ملاقات کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر اور سفارتی ذرائع کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں، جو اپنے سرکاری دورے پر تہران پہنچ چکے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جب کہ ترکیے کی طرف سے ترک انٹیلی جنس (MIT) کے سربراہ ابراہیم کالن تہران میں موجود ہیں۔ مکہ دفاعی بلاک کا یہ اعلیٰ سطحی وفد ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے حکام اور ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی سے خطے کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرے گا۔

خبر رساں ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حالیہ حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے بعد ایران اور مکہ دفاعی بلاک (پاکستان، سعودی عرب، ترکیے) کے درمیان یہ پہلا باضابطہ اور اعلیٰ ترین رابطہ ہے۔ یاد رہے کہ ان تینوں ممالک نے رواں سال اگست میں مکہ مکرمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک کی علاقائی سالمیت پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی رائد کرملی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دورہ مکہ معاہدے کے ممالک کی جانب سے بحران کو کم کرنے، سفارتی حل کو فروغ دینے اور پاکستان و قطر کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا حصہ ہے۔ مبصرین اس اہم ترین ملاقات کو خطے میں مستقل امن کے قیام، حوثی حملوں کی روک تھام اور خلیجی ممالک و ایران کے مابین غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے ایک بڑا اور فیصلہ کن بریک تھرو قرار دے رہے ہیں۔