پشاور: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال؛ سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کا مشکوک ریکارڈ سامنے آ گیا
پشاور (بیورو رپورٹ حسبان میڈیا): خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سابقہ دورِ حکومت کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات میں ایک بڑا موڑ سامنے آیا ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے مقتدر پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کے مسلسل غیر ملکی اسفار اور مشکوک مالیاتی لین دین کی اہم ترین دستاویزی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جس کے بعد احتسابی اداروں نے ان کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔
مصدقہ دستاویزات کے مطابق سال 2013 کے عام انتخابات اور پی ٹی آئی کے برسرِ اقتدار آنے سے قبل ڈاکٹر امجد علی نے اپنی پوری زندگی میں محض تین مرتبہ بیرونِ ملک سفر کیا تھا۔ تاہم، اقتدار کے ہما سر پر بیٹھتے ہی ان کے سفری ریکارڈ میں 16 گنا کا حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا، اور سال 2013 سے 2024 کے دوران ان کے غیر ملکی دوروں کی مجموعی تعداد یکدم 49 تک جا پہنچی۔ ان دوروں میں بحرین، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، چین، امریکہ، ترکی، آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے اہم ممالک شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاست کے شعبے میں قدم رکھنے سے قبل ڈاکٹر امجد علی سوات میں پنسار کا ایک انتہائی محدود کاروبار چلاتے تھے۔ چونکہ بیرونِ ملک نہ تو ان کا کوئی ذاتی کاروبار قائم ہے اور نہ ہی وہاں کوئی قریبی رشتہ دار مقیم ہے، اس لیے ان لگژری سفری اخراجات اور مہنگے قیام و طعام پر اٹھنے والے خطیر فنڈز کے ذرائع پر سنگین نوعیت کے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق صوبائی وزیر پر اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز میں مبینہ خرد برد، بیرونِ ملک بے نامی جائیدادوں کی خریداری اور منشیات اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ احتسابی و تحقیقاتی اداروں نے ان تمام غیر ملکی اسفار کے حقیقی مقاصد، پسِ پردہ مالیاتی محرکات اور ادائیگیوں کے اصل ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے باقاعدہ اور جامع جانچ پڑتال کا آغاز کر دیا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں اہم گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔