حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو دہشت گرد قرار دینا ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے، ایسی پالیسیوں کے خلاف عوام کو متحد ہوکر آواز اٹھانا ہوگی۔
میرپورخاص میں اسٹریٹ موومنٹ کے تیسرے روز منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کی جانب سے سرحدی صوبوں کے عوام سے متعلق دیے گئے بیانات قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کے بقول ایک طرف بھارت کو دوست قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے سرحدی صوبوں کے عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کے سامنے وہ اور ان کے ساتھی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو غربت، جہالت اور بھوک میں رکھنے والی پالیسیاں کسی صورت قابل قبول نہیں، کیونکہ حکمرانوں کے مفادات عوام کے مفادات سے متصادم ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے صوبائی وسائل اور عوامی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر 3300 ارب روپے کا بجٹ موجود ہو لیکن عوام کو ترقیاتی منصوبے، اسکول، کالج اور اسپتال میسر نہ ہوں تو اس صورتحال پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے لے کر اسلام آباد اور راولپنڈی تک عوام کی بڑی تعداد موجودہ سیاسی صورتحال پر احتجاج کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ تحریک مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن عوام کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام پر زور دیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور انداز میں باہر نکلیں۔
محمد سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا، ان کی اہلیہ کو جیل میں قید کیا گیا اور ان کے خاندان کو بھی سیاسی انتقام کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کے بقول عمران خان دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اسلام آباد پہنچنے کے لیے جو ذریعہ میسر ہو اسے استعمال کریں، گاڑی، موٹر سائیکل یا سائیکل دستیاب ہو تو اس پر، بصورت دیگر پیدل ہی مارچ میں شریک ہوں۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے عدالتی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، جبکہ سپریم کورٹ کے 3 ججز نے ان کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمران عدلیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ججز کو آزادی سے کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ ان کے مطابق عمران خان کی امیدیں موجودہ عدالتی نظام کے بجائے پاکستان کے نوجوانوں اور عوام سے وابستہ ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اگر انہیں ذاتی قربانی بھی دینا پڑے تو وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جدوجہد میں سینکڑوں سہیل آفریدی بھی قربان ہوجائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن عمران خان کو کھونا قبول نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں کئی دہائیوں سے ایک ہی خاندانوں کی حکمرانی کا سلسلہ جاری ہے اور اب عوام کو خود اپنی قیادت اور مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ متوسط اور عام طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے عوام کو بھی آگے بڑھ کر اپنی قیادت کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے بقول عوام مزید کرپٹ اور ظالم حکمرانوں کے تابع نہیں رہ سکتے اور حقیقی آزادی کے لیے میدان میں نکلنا ہوگا۔
انہوں نے موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں لانے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ڈان لیکس اور میموگیٹ جیسے معاملات سامنے آئے اور پارلیمنٹ کے فورم کو بھی ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
محمد سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا، سندھ، گلگت بلتستان، بلوچستان اور پنجاب کے عوام موجودہ حکمرانوں کو مسترد کر رہے ہیں اور اب لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کراچی کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’کراچی والو! تیار ہو؟ کل ہم آپ کی طرف آ رہے ہیں۔‘‘