حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
دو صوبے جل رہے ہیں اور حکومت کو نئے صوبوں کی پڑی ہے!15 نئے صوبے بنانا آئین کا مذاق ہے۔مولانا فضل الرحمان Home / سیاست /

دو صوبے جل رہے ہیں اور حکومت کو نئے صوبوں کی پڑی ہے!15 نئے صوبے بنانا آئین کا مذاق ہے۔مولانا فضل الرحمان

ایڈیٹر - 05/09/2026
دو صوبے جل رہے ہیں اور حکومت کو نئے صوبوں کی پڑی ہے!15 نئے صوبے بنانا آئین کا مذاق ہے۔مولانا فضل الرحمان

خانیوال: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں 15 نئے صوبے قائم کرنے کی حکومتی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی غلط اور غیر منطقی فیصلہ قرار دیا ہے۔ خانیوال میں جے یو آئی (ف) کے ممتاز رہنما علامہ اکرام القادری کی عیادت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکمران اتحاد پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی و آئینی بحران کے دوران پاکستان کے آئین کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے ملکی سلامتی اور امن و امان کی نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے دو اہم ترین صوبے شدید بدامنی کا شکار ہیں، لیکن حکومت ان سنگین مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئے صوبوں کے قیام کی باتیں کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عوامی اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے اور اس کے پاس ایسے بڑے فیصلے کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) نے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قبل ازیں کیا گیا فاٹا انضمام کا فیصلہ بھی بدترین اور ناکام ثابت ہو چکا ہے۔

مستقبل کی سیاسی صف بندی اور پارلیمانی حکمتِ عملی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا کہ ان کی جماعت اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دونوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملکی مفاد، آئین کے تحفظ اور حکومتی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پارلیمان کے اندر تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ یکطرفہ حکومتی فیصلوں کا راستہ روکا جا سکے۔