حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران کے ساتھ جاری جنگ کے مستقبل کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہم آپشنز پر غور کررہے ہیں، جہاں ایک طرف وہ جنگ کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کرنے کے امکان پر اپنے قریبی معاونین سے مشاورت کررہے ہیں، تو دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی مزید بڑھانے کی تیاری شروع کردی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سینئر مشیروں کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ آیا ایران کے خلاف جاری جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا جائے یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اس حکمت عملی کے حامی ہیں کہ جنگ کے بجائے ایران پر مسلسل سخت معاشی دباؤ برقرار رکھا جائے۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ طویل مدتی اقتصادی دباؤ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے پر مجبور کرسکتا ہے، بصورت دیگر ایران کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا آغاز کیا، جس کے تحت ایران کی معیشت کے اہم شعبوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس حکمت عملی میں ایرانی تیل، بحری تجارت، ہوا بازی، سونے، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق شعبوں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یوں واشنگٹن کی حکمت عملی میں بظاہر 2 مختلف پہلو سامنے آرہے ہیں؛ ایک جانب جنگ کے باضابطہ خاتمے کے امکان پر غور کیا جارہا ہے، جبکہ دوسری طرف خطے میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھنے اور ایران پر معاشی دباؤ مزید سخت کرنے کی تیاری بھی جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ مسلسل اقتصادی دباؤ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں بڑے فیصلے کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
تاہم ایران کے ساتھ جنگ کے باضابطہ خاتمے، امریکی فوجی تعیناتیوں اور خطے میں مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔