حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اسمبلیاں اور پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے چاہیں تو پاکستان میں نئے صوبے بن سکتے ہیں، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ۔ Home / سیاست /

اسمبلیاں اور پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے چاہیں تو پاکستان میں نئے صوبے بن سکتے ہیں، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ۔

ایڈیٹر - 03/09/2026
اسمبلیاں اور پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے چاہیں تو پاکستان میں نئے صوبے بن سکتے ہیں، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ۔

لندن: وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام آئینی طور پر صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کی مرضی سے مشروط ہے؛ اگر متعلقہ اسمبلیاں اور پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے چاہیں تو نئے صوبے بن جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لندن میں میڈیا نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ملک کے سیاسی، آئینی اور علاقائی امور پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ صوبوں کی تقسیم اور نئے انتظامی یا سیاسی صوبوں کے قیام سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ جب بھی صوبائی اسمبلیاں اپنے متعلقہ علاقوں میں نئے صوبے کی تشکیل کی منظوری دیں گی اور پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت کے ساتھ اس کی توثیق کرے گی، تو نئے صوبے وجود میں آ جائیں گے۔

آزاد کشمیر کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے وفاق وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ وہاں سب سے بڑا چیلنج اور مسئلہ پرامن و شفاف انتخابات کا انعقاد تھا، اور آزاد کشمیر میں انتخابات کو پرامن اور شفاف انداز میں مکمل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کا انتخاب کرنے کا اصل حق میاں محمد نواز شریف کو حاصل تھا۔

ملکی سیاسی صورتحال اور حکومت و اپوزیشن کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ جمہوریت میں مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان متعدد بار اپوزیشن کو ملک کے وسیع تر مفاد میں مذاکرات کی باضابطہ دعوت دے چکے ہیں تاکہ سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔