اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 عام قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی اور بیرون ملک مقیم فیملی ممبران سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اجازت سے متعلق دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو رواں ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی نے قیدیوں کے طبی حقوق کے حوالے سے انتہائی اہم ریمارکس دیے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی قیدی کو کوئی بیماری لاحق ہو جائے تو متعلقہ حکام کو فوری سنجیدگی دکھانی چاہیے، آپ کسی بھی قیدی کی بیماری کے ساتھ کھیل نہیں سکتے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ قانون میں یہ کہاں لکھا ہے کہ قیدی بیرون ملک مقیم اپنی فیملی سے ٹیلیفونک گفتگو نہیں کر سکتا؟ بے شک فیملی بیرون ملک ہی کیوں نہ ہو، پمز اسپتال کی حالت آپ خود دیکھ لیں کہ وہاں کیا صورتحال ہے۔
دوسری جانب، بیرسٹر ظفر اللہ اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے قیدیوں کو پرائیویٹ اسپتال منتقل کرنے کی درخواستوں کی سخت مخالفت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کے سامنے قیدیوں کی میڈیکل رپورٹ پڑھ کر سنائی اور دلائل دیے کہ موجودہ جیل مینوئل انگریز دور کا بنایا ہوا ہے جس پر ابھی تک عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب پنجاب میں جیل قوانین کے اندر ضروری ترمیم کی جا رہی ہے، کیونکہ انڈین پینل کوڈ (IPC) اور ہمارے ملکی قانون میں اب کافی فرق آ چکا ہے۔