پشاور: گندم کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری، اسٹیرنگ کمیٹی کا بڑا فیصلہ
پشاور (خبر نگار خصوصی): ملک بھر میں گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی کا قلع قمع کرنے اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بڑا اور دور رس فیصلہ کیا ہے۔ نائب وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت فوڈ ڈائریکٹر 26-2025 کے لیے تشکیل دی گئی اسٹیرنگ کمیٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس کے منٹس کے مطابق، ملک میں گندم کی دستیابی کو برقرار رکھنے کے لیے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ اور صوبوں کی فوری طلب کو پورا کرنا ہے۔
اجلاس کی تفصیلات کے مطابق، ملک بھر کے صوبوں کی جانب سے گندم کی مجموعی طلب 1.5575 ملین میٹرک ٹن بتائی گئی ہے۔ صوبائی تقاضوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت پاسکو (PASCO) کے پاس 1.01 ملین میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں، جس کے باعث صوبائی تقاضوں (1.5575 ملین میٹرک ٹن) اور پاسکو کے موجودہ اسٹاکس کے درمیان تقریباً 5 لاکھ میٹرک ٹن (0.5 MMT) کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کمی کو شفاف اور مقررہ مدت کے اندر پورا کرنے کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے گندم کی درآمد کا عمل فوری طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 1.0 ملین میٹرک ٹن اسٹریٹجک ریزرو برقرار رکھنے کے حوالے سے فیصلہ گندم کی آئندہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مؤخر کیا گیا ہے، تاہم اسٹریٹجک ذخائر کے لیے درآمدات کے بجائے مقامی فصل سے خریداری کو ترجیح دی جائے گی۔
اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے فیصلوں کی روشنی میں دسمبر 2026 تک پاسکو (PASCO) کی بندش کا عمل مکمل کرنے کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ پاسکو کی بندش کے بعد ملک کے اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق جلد ایک جامع متبادل ادارہ جاتی تجویز پیش کرے گی۔ وزارتِ تجارت اور وزارتِ غذائی تحفظ کا کہنا ہے کہ پاسکو کے موجودہ اسٹاکس کو ترجیحی بنیادوں پر صوبوں کو فوری جاری کرنے سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی اور آٹے و گندم کی قیمتوں میں واضح استحکام آئے گا۔