ہانگ کانگ: پاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے مکمل تیار ہے، وزیر مملکت بلال بن ثاقب
ہانگ کانگ/ اسلام آباد (خصوصی رپورٹر): وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے عالمی سطح پر پاکستان کا برانڈ امیج روشن کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان مستقبل کی جدید مالیاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کو اپنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے۔ ہانگ کانگ میں جاری ایشیا کی سب سے بڑی 'بٹ کوائن ایشیا کانفرنس' سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ہونے والی تیز رفتار تکنیکی اور ریگولیٹری اصلاحات سے آگاہ کیا۔
بلال بن ثاقب نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان نئی عالمی مالیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے اور اپنی قومی ڈیجیٹل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ایک تاریخی کامیابی کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چھ ماہ سے بھی کم عرصے کے ریکارڈ وقت میں ورچوئل اثاثہ جات (کرپٹو کرنسی، ڈیجیٹل اثاثے) کا ایک جامع اور عالمی معیار کا ریگولیٹری نظام قائم کر لیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں کی ایکسچینج، کسٹڈی، بروکریج اور اثاثہ جات کی منتقلی کے عمل کو قانونی دائرہ کار میں لایا گیا ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال پیش کرتے ہوئے چیئرمین پیوارا نے بتایا کہ اس نئے ریگولیٹری نظام کی تشکیل اور اسے فعال بنانے پر صرف 2 لاکھ امریکی ڈالرز کی لاگت آئی ہے۔ انہوں نے فخر کا اظہار کیا کہ اس اہم ترین منصوبے کے لیے حکومت کی جانب سے منظور شدہ بجٹ کا تقریباً 92 فیصد حصہ استعمال ہی نہیں کیا گیا اور اسے قومی خزانے میں واپس جمع کرا دیا گیا ہے، یعنی اتھارٹی نے کل بجٹ کا محض 8 فیصد استعمال کر کے یہ سنگِ میل عبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کامیابی کا پیمانہ اخراجات نہیں بلکہ نتائج ہونے چاہئیں۔
پاکستان کی دور اندیش معاشی حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے واضح کیا کہ ہماری بنیادی کوشش بڑی مقدار میں بٹ کوائن خریدنے کے بجائے ملک کو مستقبل کے ابھرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام (ویب تھری اور ٹوکن مارکیٹس) کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضبط شدہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ملکی اضافی بجلی کو مائننگ کے لیے استعمال کر کے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کے قیام پر بھی کام ہو رہا ہے تاکہ پاکستان آنے والی دہائیوں میں کسی بھی تکنیکی انقلاب میں پیچھے نہ رہے