تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور سفارتکاری کے حوالے سے متعدد سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ایک 'جارحانہ سفارتکاری' سمجھتا ہے۔ اپنے ایک اہم ترین اور تفصیلی بیان میں باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت' پر دستخط کر کے باضابطہ طور پر 'محورِ مزاحمت' (Axis of Resistance) کو تسلیم کر لیا ہے، اور انہوں نے ان دستاویزات پر دستخط کر کے اس محاذ کو فارسی زبان میں قبول کیا ہے ۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق، صدر ٹرمپ کا مسلسل یہ اصرار تھا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام، نیوکلیئر انرجی، مزاحمتی تحریکوں کی حمایت اور آبنائے ہرمز پر اپنے سخت مؤقف کو بالائے طاق رکھ دے۔ تاہم، تہران کی سخت سفارتکاری کے نتیجے میں امریکا اسی رات آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور ہو گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایرانی بھی آبنائے ہرمز کھول دیں گے، لیکن ایران سے متعلق اس مخصوص نکتے پر میں نے اپنے مذاکرات کاروں کو سخت ہدایات دیں کہ ٹرمپ اس بیان کو فوری واپس لیں۔ میں نے واضح کیا تھا کہ اگر امریکی صدر نے یہ بیان واپس نہ لیا تو ایران فوجی حملہ کر دے گا، جس کے محض 58 منٹ بعد ہی ٹرمپ نے اپنے بیان کا دوسرا حصہ سوشل میڈیا سے ہٹا دیا۔
لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جب اسرائیل نے بیروت کے علاقے داہیہ پر حملہ کیا تو میں نے براہِ راست تل ابیب کو عبرتناک انتقامی کارروائی سے خبردار کیا تھا۔ ایران کی جانب سے پورے خطے کو نشانہ بنانے کی اس گرج دار دھمکی کے بعد ہی اسرائیل مزید حملوں سے باز آیا۔ انہوں نے تہران کے داخلی استحکام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت میں ایران کے عوامی، فوجی اور سفارتی میدانوں میں مثالی ملی اتحاد و یکجہتی موجود ہے، اور یہی قومی طاقت ایرانی عوام کے دشمنوں کو ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہی ہے۔