وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا اور عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ ہم نے اس غیر جمہوری اور غیر قانونی رویے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے رجوع کیا م، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس معاملے کی بھی شنوائی نہیں ہو رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اب تک تمام آئینی اور جمہوری راستے اختیار کیے ہیں، مگر اس کے باوجود ہماری شنوائی نہیں ہو رہی اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، اس لیے اب ہم اسی راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب اعلان کے مطابق رات دس بجے ملک بھر میں ہر چوک کو ڈی چوک بنایا جائے گا، کارکنان پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے لے کر اپنے اپنے علاقوں میں پرامن احتجاج کریں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اس احتجاج کے ذریعے واضح پیغام دیا جائے گا کہ اپریل 2022 سے اب تک ملک کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ غلط اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے محسوس ہوتا ہے کہ ججز بھی بے بس ہیں اور اپنے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرا پا رہے۔ جب عدالتی احکامات ہی غیر موثر ہو جائیں تو عدالتوں کی افادیت پر سوال اٹھتا ہے۔ اسی طرح اگر وزیراعظم بھی کسی فیصلے کے لیے یہ کہنے پر مجبور ہو کہ "پوچھ کر بتاتا ہوں" تو پارلیمنٹ کی خودمختاری بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی اور ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے اگر فیصلے کرنے کے لیے کسی اور کی اجازت یا پرچی کے منتظر رہیں تو ان کے کردار اور افادیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔موجودہ حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ کے اپنے وزراءکے مطابق پاکستان کا نظام معطل ہو چکا ہے اور ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ صنعتکار، نوجوان اور معاشرے کے دیگر طبقات اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی کا شکار ہیں، جبکہ حکمرانوں کے پاس اقتدار کے دن گزارنے اور اپنی جیبیں بھرنے کے علاوہ کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی۔ حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ نوجوان نسل کا عدالتوں، جمہوریت اور اداروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ نوجوان اپنے مینڈیٹ کا تحفظ، انصاف اور بہتر مستقبل کے لیے موثر پالیسیاں چاہتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے نزدیک یہ کام عمران احمد خان نیازی ہی کر سکتے ہیں، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں ناحق قید ہیں۔ عمران خان پاکستان کے تحفظ، قومی یکجہتی اور مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر سے پہلے وہ آخری مرتبہ اڈیالہ جیل آئے ہیں، اب اسی وقت آئیں گے جب حکام خود عمران خان سے ملاقات کی تصدیق کریں گے۔ کارکنان اور عوام اپنی تمام توجہ 27 ستمبر پر مرکوز رکھیں کیونکہ یہ دن حکمرانوں کے لیے ڈراونا خواب بن چکا ہے۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ روز صرف دو دن کے نوٹس پر ضلع خیبر میں عوام کا سمندر امڈ آیا، جس سے عوام کے جوش و جذبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی جذبہ دیگر اضلاع میں بھی اسٹریٹ موومنٹ کی صورت میں سامنے آئے گا اور 27 ستمبر کو بیس لاکھ سے زائد افراد اسلام آباد کی طرف رخ کریں گے۔ جس شخص کے ہاتھ میں پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا ہوگا، وہ عمران خان کا سپاہی ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 27 ستمبر کو پوری دنیا پاکستان کے نوجوانوں کی طاقت، عوامی جذبے اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا منظر دیکھے گی۔