حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پشاور کے بازاروں پر بحران کے بادل، کاروباری افراد نے سرمایہ سمیٹنا شروع کردیا Home / /

پشاور کے بازاروں پر بحران کے بادل، کاروباری افراد نے سرمایہ سمیٹنا شروع کردیا

ایڈیٹر - 11/08/2026
پشاور کے بازاروں پر بحران کے بادل، کاروباری افراد نے سرمایہ سمیٹنا شروع کردیا

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): سیکیورٹی صورتحال، بڑھتی مہنگائی، ٹیکسوں کے دباؤ اور افغان مہاجرین کی واپسی نے پشاور کی تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث کئی کاروباری افراد اپنے کاروبار محدود کرنے، بند کرنے یا سرمایہ شہر سے باہر منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں خریداروں کی کمی نمایاں ہونے لگی ہے، جبکہ تاجروں کے مطابق بازاروں میں معمول کے مقابلے میں کاروباری سرگرمیاں خاصی کم ہوگئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات اور امن و امان سے متعلق خدشات پہلے ہی کاروبار کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے، تاہم موجودہ حالات نے دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

پشاور کے مصروف بازاروں سمیت صدر کے علاقے میں بھی بعض بڑے ملبوسات کے مراکز کی سرگرمیاں محدود ہونے لگی ہیں۔ تاجروں کے مطابق فروخت میں کمی اور بڑھتے اخراجات کے باعث بعض کاروباری ادارے اپنے موجودہ حجم کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں غیر ضروری اور نسبتاً مہنگی اشیا کی خریداری میں کمی آئی ہے۔ دوسری جانب ٹیکسوں اور دیگر کاروباری اخراجات میں اضافے نے بھی تاجروں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

تاجروں کے مطابق افغان مہاجرین کی وطن واپسی بھی پشاور کے بعض بازاروں کی کاروباری سرگرمیوں پر اثرانداز ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خریداروں کی تعداد کم ہونے سے کئی دکانوں کی فروخت متاثر ہوئی، جس کے بعد بعض کاروباری افراد سرمایہ دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے یا کاروبار ختم کرنے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

کاروباری سرگرمیوں میں کمی کا اثر روزگار پر بھی پڑنے لگا ہے۔ مختلف تجارتی مراکز میں بعض ملازمین کو فارغ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ تاجروں کو خدشہ ہے کہ اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو مزید کاروباری ادارے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے عملے کی تعداد گھٹا سکتے ہیں۔

تاجر تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور میں کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے، عوام کی قوت خرید میں اضافہ کرنے اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اگر معاشی اور سیکیورٹی مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو کاروباری سرگرمیوں میں مزید کمی کے ساتھ بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔