حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): جماعت اسلامی پاکستان نے ملک بھر میں ۹ اگست کو ہونے والے دھرنوں کا پروگرام مؤخر کرتے ہوئے نئی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے مطابق اب ملک بھر میں احتجاجی دھرنے ۱۶ اگست کو بیک وقت منعقد کیے جائیں گے۔
دھرنوں کی نئی حکمت عملی کا فیصلہ حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور مختلف صوبوں و بڑے شہروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد امیر جماعت اسلامی نے ویڈیو بیان کے ذریعے فیصلے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں نائب امراء لیاقت بلوچ، اسامہ رضی، نذیر احمد جنجوعہ، سید وقاص انجم جعفری، اظہر اقبال حسن، رسل خان بابر، جاوید قصوری اور ضیاء الدین انصاری سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ صوبائی اور بڑے شہروں کے امراء نے ویڈیو رابطے کے ذریعے اجلاس میں اپنی رائے پیش کی۔
جماعت اسلامی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ یوم آزادی کی تقریبات بھرپور انداز میں منائی جائیں گی، جس کے باعث پہلے سے اعلان کردہ ۹ اگست کے دھرنے کی تاریخ تبدیل کرکے ۱۶ اگست مقرر کی گئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ۱۶ اگست کو چاروں صوبوں میں ایک ہی وقت میں احتجاجی دھرنے شروع کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی یوم آزادی کی تقریبات میں بھی بھرپور شرکت کرے گی اور اس کے بعد ملک گیر دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا، جبکہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گورنر ہاؤسز کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو عوام پر مبینہ جبر اور ظلم کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے احتجاجی تحریک جاری رکھے گی اور حکمرانوں کو فیصلوں پر نظرثانی پر مجبور کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز ملک بھر میں ۵۱۰ مقامات پر منظم احتجاج کیا گیا، جس کے ذریعے عوام نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی محصولات ختم کرنے اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں نجی بجلی گھروں کے معاہدوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی تھی اور احتجاج کے نتیجے میں اپنے بعض مطالبات حکومت سے منوائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ احتجاج بھی عوامی مسائل کے حل تک جاری رکھا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے دفاعی تعاون سے اسلامی ممالک کو اپنی سلامتی کے معاملات میں بیرونی انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے تجویز دی کہ دفاعی تعاون کے اس دائرے کو مزید وسیع کرتے ہوئے قطر، بنگلہ دیش، ایران، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر تمام اسلامی ممالک مشترکہ دفاعی تعاون کے ایسے نظام کا حصہ بن جائیں تو ایک مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک تشکیل دیا جا سکتا ہے۔