حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): یورپ میں جاری شدید گرمی اور خشک سالی نے دریاؤں کو بھی بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہونے کے بعد دوسری عالمی جنگ کے زمانے کے ڈوبے ہوئے جنگی جہاز دوبارہ دکھائی دینے لگے ہیں۔
شدید گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث دریائے ڈینیوب کے بعض حصوں میں پانی کی سطح تاریخی کم ترین درجے تک پہنچ گئی ہے۔ پانی میں نمایاں کمی کے نتیجے میں کئی ایسی چیزیں سامنے آگئی ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے دریا کی تہہ میں چھپی ہوئی تھیں۔
ان میں سابق جرمن آمر ایڈولف ہٹلر کے دور کی بحریہ سے تعلق رکھنے والے جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ بحری جہاز دوسری عالمی جنگ کے آخری مرحلے میں سوویت افواج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کے دوران دریائے ڈینیوب میں ڈبو دیے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق ان پرانی جنگی کشتیوں اور جہازوں میں اب بھی خطرناک دھماکا خیز مواد موجود ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث انہیں دریا سے نکالنا ایک انتہائی پیچیدہ اور خطرناک عمل بن چکا ہے۔
دریائے ڈینیوب میں پانی کی کمی صرف تاریخی باقیات سامنے آنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ پانی کی کم سطح نے آبی بجلی کی پیداوار اور دیگر توانائی سے متعلق سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار یورپی توانائی نظام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور مسلسل خشک سالی موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کی نشاندہی کر رہی ہے۔ دریاؤں میں پانی کی کمی سے نہ صرف بجلی کی پیداوار اور آبی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے بلکہ زراعت، صنعت اور پینے کے پانی کی دستیابی پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
دریائے ڈینیوب یورپ کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور کئی ممالک کے لیے تجارت، توانائی اور نقل و حمل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کی سطح میں غیر معمولی کمی نے یورپی حکام کو مستقبل میں پانی کے بحران اور شدید موسمی حالات کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے مزید محتاط کر دیا ہے۔