تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے معاملے پر امریکا کے سامنے سخت شرائط رکھ دی ہیں اور واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم کیے بغیر اہم ترین بحری گزرگاہ کی مکمل بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے امریکا کو ایران کے بنیادی مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔ ان شرائط میں ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ختم کرنا، ایرانی قوم کی توہین سے گریز اور ایران و اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کا مستقل خاتمہ شامل ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا کو ایران کی بحری ناکہ بندی بھی ختم کرنا ہوگی اور ایران کے گرد موجود امریکی فوجی دستوں کو واپس ہٹانا ہوگا۔ تہران نے جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل ازالہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایران نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی عوام پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور بیرون ملک موجود ایرانی اثاثے بغیر کسی شرط کے بحال کیے جائیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے بنیادی تقاضے ہیں۔
ذوالقدر نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنی پالیسی اور طرزِ عمل میں تبدیلی نہ کی تو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔ ان کے مطابق ایران جنگ ہو یا مذاکرات، اپنے بنیادی مؤقف اور قومی مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق تازہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور عمان عارضی بحری راستے کے حوالے سے ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک نیا راستہ تیار کر لیا ہے، تاہم اس پیش رفت کو آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزرگاہ کی مکمل بحالی کا فیصلہ دیگر اہم عوامل سے مشروط ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا پر مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ موجودہ بحران امریکی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال معمول پر لانے کے لیے امریکا کو پہلے اپنی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گزرگاہ کی بندش یا محدود آمدورفت عالمی توانائی کی منڈیوں اور خطے کی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
ایران کے حالیہ مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے معاملے کو امریکا کے ساتھ وسیع تر سیاسی، عسکری اور اقتصادی تنازعات کے حل سے جوڑ رہا ہے۔