حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران عالمی شہرت یافتہ فٹبالرز اور دیگر اہم شخصیات کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے متعلق مبینہ پولیس دستاویز سامنے آنے کے بعد کھیلوں کی دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ رپورٹ میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو، ریفریز اور متعدد کھلاڑیوں کو ملنے والی دھمکیوں اور سیکیورٹی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی سیکیورٹی خطرات کا نمایاں ہدف رہے۔ اردن کے خلاف میچ سے قبل مبینہ طور پر ایک شخص نے ڈیلاس ایئرپورٹ پر فون کرکے اسٹیڈیم میں مسلح حملے کی دھمکی دی۔
مصر کے خلاف میچ سے پہلے بھی میسی کو بم حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی سامنے آئی۔ اسی میچ کے دوران اسٹیڈیم کے کچرے کے ڈبوں میں بم موجود ہونے کی اطلاع پر سیکیورٹی اہلکاروں نے بم ڈسپوزل ماہرین اور تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے سرچ آپریشن کیا، تاہم کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی سیکیورٹی بھی حکام کے لیے باعث تشویش رہی۔ ان کی رہائش گاہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کے علاوہ ایک مشکوک شخص مبینہ طور پر مداح کا روپ دھار کر ان کے ہوٹل تک پہنچ گیا۔
پولیس دستاویز کے مطابق رونالڈو کی موجودگی والے مقامات کے حوالے سے مشکوک سرگرمیوں پر سیکیورٹی اداروں کو الرٹ کیا گیا تھا۔
ارجنٹائن اور مصر کے میچ کے دوران فیصلوں پر شدید ردعمل کے بعد فرانسیسی ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر کو بھی بڑی تعداد میں دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض دیگر کھلاڑی بھی سوشل میڈیا پر شدید نفرت اور دھمکیوں کا نشانہ بنے۔ ناروے کے الیگزینڈر سورلوتھ اور کولمبیا کے جے ہون کیمپاز کو اہم مواقع ضائع کرنے کے بعد مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق انگلینڈ کے میڈیا سینٹر اور ٹیم سے متعلق سیکیورٹی خدشات کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیے گئے۔ متعدد حفاظتی حصار، کنکریٹ رکاوٹیں، اسنائپرز سے بچاؤ کے انتظامات اور فضائی حدود میں پابندی جیسے اقدامات کیے گئے۔
ورلڈ کپ سے قبل بھی میزبان ممالک میں دہشت گردی، سائبر حملوں، ڈرونز اور دیگر سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
مبینہ پولیس دستاویز کے انکشافات نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شامل معروف کھلاڑیوں اور ٹیموں کو میدان کے اندر مقابلے کے ساتھ ساتھ میدان سے باہر کس قدر سنگین سیکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔