تحریر: انورزادہ گلیار
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، سیاسی نمائندگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی سے جڑا ہوا اہم قومی سوال ہے۔ بڑھتی آبادی، وسیع جغرافیہ اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی نے یہ بحث مزید اہم بنا دی ہے کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے یا ملک کو مزید انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے؟ اس سوال کی اہمیت خیبر پختونخوا کے انضمام شدہ اضلاع کے تناظر میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جہاں 2018 کی 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا۔
نئے صوبوں کے قیام کا بنیادی فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت عوام کے قریب آئے، فیصلہ سازی تیز ہو، ترقیاتی منصوبے مقامی ضرورت کے مطابق بنیں اور دور دراز علاقوں کو سیاسی و انتظامی نمائندگی ملے۔ چھوٹی انتظامی اکائی میں حکومت کے لیے تعلیم، صحت، سڑکوں، بجلی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی نگرانی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہر خطہ اپنی زراعت، معدنیات، سیاحت، صنعت اور سرحدی تجارت کے مطابق معاشی پالیسی بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے مقابلے میں نئے صوبے کے لیے اسمبلی، سیکریٹریٹ، محکموں، پولیس اور دیگر اداروں کا نیا ڈھانچہ قائم کرنا قومی خزانے پر اضافی بوجھ بھی ڈال سکتا ہے۔ اگر صوبہ سازی صرف نئے عہدوں اور دفاتر تک محدود رہی تو عوام کو فائدہ کم اور اخراجات زیادہ ہوں گے۔ اس لیے نئے صوبوں کا فیصلہ جذبات یا سیاسی مفادات کے بجائے آبادی، جغرافیہ، معاشی استعداد، انتظامی ضرورت اور عوامی رضامندی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
ضم شدہ اضلاع کا معاملہ اس لیے منفرد ہے کہ ان علاقوں کا تاریخی اور انتظامی پس منظر باقی صوبے سے مختلف رہا ہے۔ 2018 کا انضمام آئینی اعتبار سے ایک تاریخی قدم تھا، مگر عملی انضمام ابھی بھی ایک مسلسل عمل ہے۔ ان علاقوں کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، روزگار، صنعت، امن و امان اور سرحدی تجارت کے میدان میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ اس لیے بحث صرف اس بات تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ یہ اضلاع کس صوبے کا حصہ ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں مؤثر اختیارات، مناسب وسائل اور ترقی کے یکساں مواقع کیسے فراہم کیے جائیں۔
اگر ساتوں ضم شدہ اضلاع کو ملا کر الگ صوبہ بنانے کی تجویز پر غور کیا جائے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک ایسی حکومت وجود میں آئے گی جس کی بنیادی ترجیح انہی علاقوں کے مسائل ہوں گے۔ ایک مخصوص بجٹ، صوبائی اسمبلی اور مقامی ترجیحات کے ذریعے تعلیم، صحت، سڑکوں، صنعت، معدنیات، زراعت، سیاحت اور سرحدی تجارت کو ایک مربوط منصوبے کے تحت فروغ دیا جا سکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ان علاقوں کو مستقبل میں قانونی تجارت، ٹرانزٹ، برآمدات اور سرحدی مارکیٹوں کے لیے اہم معاشی خطہ بھی بنا سکتی ہے۔
لیکن الگ صوبے کے نقصانات بھی واضح ہیں۔ ساتوں اضلاع جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہیں؛ باجوڑ اور مہمند شمال میں، خیبر پشاور کے قریب، کرم و اورکزئی وسطی حصے میں جبکہ شمالی اور جنوبی وزیرستان جنوبی خطے میں واقع ہیں۔ ایسے صوبے کا دارالحکومت کہاں ہوگا اور دور دراز اضلاع تک حکومت کی رسائی کیسے یقینی بنائی جائے گی، یہ بنیادی سوالات ہیں۔ اگر تمام ادارے ایک ہی شہر میں مرکوز کر دیے گئے تو نئے صوبے کے اندر بھی وہی مرکزیت پیدا ہو سکتی ہے جس کے خاتمے کے لیے صوبہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔
ہر ضلع کے اپنے الگ امکانات اور چیلنجز بھی ہیں۔ باجوڑ اور مہمند شمالی سرحدی تجارت، زراعت، معدنیات اور علاقائی رابطوں کے باعث اہمیت رکھتے ہیں؛ خیبر طورخم اور افغانستان کے ساتھ تجارت کے باعث ممکنہ طور پر بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے؛ کرم زراعت، باغبانی، قدرتی حسن اور سرحدی تجارت کے امکانات رکھتا ہے؛ اورکزئی معدنیات اور سیاحت کے لیے اہم ہے؛ جبکہ شمالی اور جنوبی وزیرستان وسیع رقبے، معدنی وسائل، سرحدی تجارت اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے بڑی معاشی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف دشوار گزار جغرافیہ، کمزور انفراسٹرکچر، ماضی کے سکیورٹی مسائل، بے روزگاری اور محدود صنعتی سرگرمیاں ان تمام اضلاع کے مشترکہ چیلنجز ہیں۔ اس لیے ایک نئے صوبے کی کامیابی کا انحصار محض سیاسی نقشے پر نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر، امن، تعلیم، صحت، روزگار اور سرمایہ کاری پر ہوگا۔
باجوڑ کے حوالے سے اس کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ افغانستان کے کنڑ سے متصل اور ملاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس کے دیر، ملاکنڈ اور مہمند سمیت قریبی علاقوں کے ساتھ مضبوط روابط ہیں۔ اگر ضم شدہ اضلاع موجودہ خیبر پختونخوا کا حصہ رہتے ہیں تو باجوڑ کے لیے ملاکنڈ کے ساتھ علاقائی و معاشی روابط کو مزید مضبوط کرنا عملی فائدہ دے سکتا ہے۔ تاہم اگر مستقبل میں سابق فاٹا پر مشتمل الگ صوبہ قائم ہوتا ہے تو باجوڑ اپنی سرحدی حیثیت، زراعت، تجارت اور جغرافیائی محل وقوع کے باعث اس نئے صوبے کا اہم شمالی معاشی مرکز بن سکتا ہے۔
اصل حل شاید صرف نئے صوبے بنانے میں نہیں بلکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ہے۔ اگر صوبہ چھوٹا بھی کر دیا جائے لیکن اختیارات پھر بھی دارالحکومت میں مرکوز رہیں تو عام شہری کی مشکلات کم نہیں ہوں گی۔ ضم شدہ اضلاع کے لیے مضبوط بلدیاتی حکومتیں، ضلع و تحصیل کی سطح پر مالی اختیارات، خصوصی ترقیاتی پیکیج، شفاف وسائل کی تقسیم اور مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی زیادہ فوری نتائج دے سکتی ہے۔
لہٰذا پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی تقسیم کے بجائے انتظامی اصلاحات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر نیا صوبہ حکومت کو عوام کے قریب، وسائل کو منصفانہ اور پسماندہ علاقوں کو بااختیار بناتا ہے تو یہ قابلِ غور اقدام ہے؛ لیکن اگر اس سے صرف نئی اسمبلیاں، وزارتیں اور سرکاری دفاتر پیدا ہوں تو یہ قومی خزانے پر اضافی بوجھ ہوگا۔ ضم شدہ اضلاع کے لیے بھی اصل سوال نیا صوبہ یا موجودہ صوبہ نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جو باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے عوام کو امن، تعلیم، صحت، روزگار، تجارت، بنیادی ڈھانچے اور سیاسی اختیار میں حقیقی حصہ دے۔
آخرکار پاکستان کو نئے نقشوں سے زیادہ نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت عوام کے قریب، وسائل شفاف اور اختیارات مقامی سطح پر ہوں تو موجودہ انتظامی ڈھانچہ بھی مؤثر ہو سکتا ہے، اور اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کو نئے نام سے جاری رکھ سکتے ہیں۔