ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ان کی جانب سے ٹروتھ کمیشن کے قیام سے متعلق بھیجے گئے خط کا باضابطہ جواب دے دیا ہے، جس میں اپنی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ترجیح بحران کا خاتمہ، عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور آزاد جموں و کشمیر میں معمولاتِ زندگی کو جلد از جلد بحال کرنا ہے۔ ان کے بقول، ہر قیمتی انسانی جان کا ضیاع قومی المیہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ اور متفقہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس امر کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مجوزہ ٹروتھ کمیشن کو آگے بڑھانے کے لیے ادارہ جاتی طریقۂ کار پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق اس کمیشن کی توثیق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی بھی کر چکی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سے بھی مشاورت کریں گے، جبکہ وزیراعظم وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے ابتدائی رائے حاصل کریں گے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا کسی متفقہ لائحۂ عمل پر اتفاق رائے ممکن ہے یا نہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ذریعے ایسا مؤثر طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جو بحران کے مستقل اور پائیدار حل کی بنیاد بن سکے۔