ملک کو تقسیم کرنے کی بھیانک سازش کی جا رہی ہے، سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں کو عوامی ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا: رہنما پی پی پی نثار کھوڑو
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متنازع گفتگو کے ذریعے ملک کا امن و امان اور سیاسی ماحول خراب کرنے کی باقاعدہ کوشش کی جا رہی ہے۔ کراچی میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ اقدامات اور بیانات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلے صدرِ مملکت سے ملاقات کی اور اس کے فوراً بعد ایک متنازع بیان داغ دیا۔ انہوں نے اس عمل کو ایک "بھیانک سازش" قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کچھ عناصر ملک میں 22 صوبے بنا کر 22 وزرائے اعلیٰ لانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سندھ کی جغرافیائی حیثیت اور اس کی تقسیم کی بات کرنے والے عناصر کو صوبے کے عوام کی جانب سے شدید اور سخت ترین ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب، صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ کے عوام اور منتخب نمائندے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں نہیں ہیں، تو یہاں کسی صورت نیا صوبہ نہیں بننا چاہیے۔ تاہم انہوں نے پنجاب کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب اسمبلی میں نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی قرارداد منظور کی گئی ہے، تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہاں کے عوام نئے صوبے چاہتے ہیں، لہٰذا وہاں ضرورت کے مطابق نئے صوبے قائم کیے جانے چاہئیں، مگر سندھ پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔