ویب ڈیسک: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت آج مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے مخصوص انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں لاکھوں ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔
صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ اس مرحلے میں بارہ لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اکیس انتخابی حلقوں میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔
مظفرآباد ڈویژن کی نو نشستوں پر دو سو آٹھ امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں، جبکہ ان حلقوں میں آٹھ لاکھ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی بارہ نشستوں پر ایک سو تینتالیس امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
شفاف اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے مظفرآباد ڈویژن میں ایک ہزار چار سو تراسی پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جبکہ حساس قرار دیے گئے مقامات پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حلقہ ایل اے اٹھائیس، ایل اے انتیس اور ایل اے اکتیس کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
اہم انتخابی مقابلوں میں مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر، استحکام پاکستان پارٹی کے سردار تنویر الیاس، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر سمیت کئی نمایاں سیاسی شخصیات ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، جس کے باعث ان حلقوں پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔
راولپنڈی ڈویژن میں کشمیری مہاجرین کی تین نشستوں پر پینتیس امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں حلقہ ایل اے پینتالیس کشمیر ویلی ششم کے لیے اکیس اضلاع میں اکتالیس پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہزاروں ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دے کر اضافی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
الیکشن حکام کے مطابق تمام حلقوں میں پولنگ مکمل ہونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج موصول ہونا شروع ہو جائیں گے، جس کے بعد آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔