سوات: جماعت اسلامی کا ٹیکسز اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 7 اگست کو چکدرہ موٹروے بند کرنے کا اعلان، کبل میں بڑا جلسہِ عام
سوات – ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف جماعت اسلامی نے احتجاجی تحریک تیز کرتے ہوئے 7 اگست کو چکدرہ موٹروے مکمل طور پر بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان سوات کے علاقے کبل میں منعقدہ ایک بہت بڑے جلسہِ عام کے دوران کیا گیا، جس میں مقامی عوام، تاجر برادری اور کارکناں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جلسے سے امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے آن لائن خصوصی خطاب کیا۔
جلسہِ عام سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے مروجہ معاشی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پہلے ہی موجودہ ناگفتہ بہ حالات کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، لیکن حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن کو ماضی میں ٹیکسوں سے استثنیٰ کی خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے، مگر اب یہاں سیلز ٹیکس آن سروسز نافذ کر کے عوام اور تاجر برادری کو شدید پریشانی میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔
عنایت اللہ خان نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسز کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو 7 اگست کو چکدرہ موٹروے پر ہونے والا احتجاج صوبائی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی ردِعمل ثابت ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔