ویب ڈیسک: سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے یمن کے صوبہ الحدیدہ میں عسکری کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے دوران صرف حوثیوں سے وابستہ فوجی مراکز اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ شہری تنصیبات اور بندرگاہ کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
اتحادی افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کا بنیادی مقصد بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کا خاتمہ اور بحری راستوں کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام بندرگاہیں معمول کے مطابق بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں۔
بیان کے مطابق اگر حوثیوں کی جانب سے جارحانہ سرگرمیاں جاری رہیں تو ان کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ اتحادی افواج نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کارروائی صرف عسکری اہداف تک محدود رہی اور اس کا مقصد خطے میں سلامتی برقرار رکھنا تھا۔
اس سے قبل حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی افواج نے الحدیدہ گورنریٹ اور جزیرہ کمران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ تاہم اتحادی افواج نے اس تاثر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی صرف حوثیوں کی فوجی تنصیبات کے خلاف کی گئی۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حوثی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ الحدیدہ کو نشانہ بنا کر سعودی عرب نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے اور اب جواباً کارروائی کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔
حوثیوں سے وابستہ ٹیلی وژن چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں الحدیدہ میں مواصلاتی ادارے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جزیرہ کمران پر بھی فضائی کارروائی کی گئی۔ چینل کے مطابق ایک حملے میں کم از کم ایک خاتون زخمی ہوئی۔
ادھر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ الحدیدہ بندرگاہ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم سعودی اتحادی افواج نے ایک بار پھر اس بات کی تردید کی کہ بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور کہا کہ کارروائی صرف حوثیوں کے فوجی مراکز تک محدود رہی۔
الحدیدہ یمن کا ایک اہم ساحلی شہر ہے، جہاں واقع بندرگاہ حوثیوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے۔
یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہیں، جن سے علاقائی اور عالمی بحری سلامتی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل حوثی تحریک انصار اللہ نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔