ویب ڈیسک: فرانس اور اسپین میں جنگلات میں بھڑکنے والی خوفناک آگ نے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک میں دو لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ کو مزید خطرناک بنا دیا ہے، جبکہ حکام اسے حالیہ برسوں کی سنگین ترین آفات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
فرانسیسی حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد کا انخلا کیا جا چکا ہے۔ ساحلی علاقوں میں بعض مقامات پر زمینی راستے بند ہونے کے باعث شہریوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ علاقوں تک منتقل کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں نے آگ کا رخ تبدیل کر دیا ہے اور شعلے اب اہم شہر بوردو کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث امدادی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر قومی بحران سے نمٹنے والے اداروں کو مکمل طور پر متحرک کرتے ہوئے فوج کو بھی امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق آگ بجھانے کی کارروائیوں کے دوران درجنوں فائر فائٹرز زخمی ہوئے ہیں، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات میں آگ لگنے کی وجوہات حادثاتی قرار دی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب اسپین میں بھی جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جہاں حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ جنگلاتی آگ کے باعث قومی ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
دارالحکومت میڈرڈ اور گرد و نواح سے تقریباً ساٹھ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ مزید بیس ہزار افراد کو احتیاطاً گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے اور امدادی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
حکام کے مطابق تقریباً انتالیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور مسلسل گرمی کی لہر نے آگ کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ میڈرڈ کے اطراف مختلف مقامات پر بھڑکنے والی آگ آپس میں مل کر ایک وسیع آتش زدگی میں تبدیل ہو چکی ہے۔
پولیس نے واقعے کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے، جس پر ممنوعہ علاقے میں مشینری استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مشینری سے نکلنے والی چنگاری آگ بھڑکنے کا سبب بنی۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے فرانس اور اسپین نے یورپی اتحاد سے فوری مدد طلب کی ہے، جس کے بعد اٹلی، یونان، کروشیا اور پرتگال سمیت متعدد یورپی ممالک نے آگ بجھانے والے طیارے، ہیلی کاپٹر اور دیگر امدادی وسائل متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دیے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی، خشک موسم اور دیہی آبادیوں کی شہروں کی جانب منتقلی کے باعث جنگلات گھروں کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کی وجہ سے اس نوعیت کی آتش زدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔