اسلام آباد: ملک بھر میں مون سون کی نئی طاقتور لہر کا الرٹ جاری، وزیر اعظم کی این ڈی ایم اے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت
محکمہ موسمیات (PMD) نے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے ایک نئے اور شدید سلسلے کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ موسمیاتی پیشگوئی کے مطابق، پیر سے ملک کے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا ایک انتہائی مضبوط اور فعال سلسلہ داخل ہونے جا رہا ہے، جو بتدریج پاکستان کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس نئے موسمیاتی نظام کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں شدید گرج چمک، آندھی اور موسلا دھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر انتظامی اور سیکیورٹی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مری، اور خطہ پوٹھوہار میں 19 سے 23 جولائی کے دوران تیز رفتار ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔ محکمہ موسمیات نے راولپنڈی سمیت پنجاب کے متعدد نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا شدید خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں بھی 19 سے 23 جولائی تک طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 18 سے 25 جولائی تک طویل اسپیل کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (چٹانیں کھسکنے) کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس کے برعکس، صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم بدستور شدید گرم اور مرطوب رہے گا۔
ممکنہ سیلابی صورتحال اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر بھی تیاریاں ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں انہوں نے وزیر اعظم کو مون سون کے دوران ممکنہ خطرات اور ادارے کے حفاظتی و ریسکیو پلان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ تمام صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) کے ساتھ مواصلاتی رابطوں کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں شہریوں کے جان و مال کا بروقت اور منظم تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔