مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران خلیجی ملک بحرین میں ایک بار پھر فضائی خطرے کے ہنگامی سائرن بج اٹھے ہیں، جس کے بعد بحرینی وزارتِ داخلہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے اپنے تمام شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور زیرِ زمین پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی سخت ہدایت کی ہے۔ یہ ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے باقاعدہ اعلان کیا کہ بحرین میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے ایک نئے اور بڑے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ان کی بحری اور فضائی افواج نے ایک مشترکہ اور بڑے پیمانے کی عسکری کارروائی میں بحرین اور کویت سمیت خطے میں موجود امریکی فوج کے مجموعی طور پر 85 اہداف کو بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ (5th Fleet) کے ہیڈکوارٹر اور کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس کو خاص طور پر نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو حال ہی میں امریکی فضائی حملوں کی جانب سے کی گئی مبینہ جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمت کی خلاف ورزی کا پہلا ردِعمل قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، بحرین اور کویت کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے جدید فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کو فوری طور پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جس نے متعدد دشمن میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی کامیابی سے انٹرسیپٹ (تباہ) کر دیا ہے۔ بحرینی حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر کان دھرنے کے بجائے مکمل طور پر پرسکون رہیں، سڑکوں اور شاہراہوں پر نکلنے سے گریز کریں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ حفاظتی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اس اچانک حملے نے پورے خلیجی خطے کو جنگ کے سنگین دہانے پر لا کھڑا کیا