امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ مزید کسی قسم کی بات چیت یا نئے معاہدے میں ان کی دلچسپی نہیں رہی، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی اب برقرار نہیں رہی۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران اور گرین لینڈ سے متعلق معاملات پر نیٹو کے مؤقف سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب اپنی حیثیت کھو چکا ہے اور وہ تہران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ شب ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی گئی اور تہران کو واضح پیغام دیا گیا کہ ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے بقول امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے اور واشنگٹن اس پالیسی پر ہر صورت عمل کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرنے سے گریز نہ کرتا، اسی لیے امریکا ایران کو غیر جوہری رکھنے کے اپنے ہدف پر قائم ہے۔ انہوں نے ایران پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور مختلف ممالک کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی عائد کیے۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈی میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا مزید گہری ہو سکتی ہے۔