پشاور : خیبر پختونخوا اسمبلی نے اراکینِ اسمبلی کے لیے نئی غیر معمولی مراعات، سیکیورٹی اور استثنیٰ پر مشتمل ایک نیا ترمیمی قانون نافذ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ گزٹڈ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اراکینِ اسمبلی کو گرفتاریوں سے تحفظ، سفری سہولیات، اور وسیع تر انتظامی و مالی استثنیٰ فراہم کیا گیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق، خیبر پختونخوا اسمبلی کے کسی بھی رکن کی گرفتاری سے قبل اب اسمبلی کے سپیکر کی پیشگی اجازت حاصل کرنا قانونی طور پر لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ مزید برآں، سپیکر کو یہ اختیار بھی تفویض کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پر پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکے، اور چالان عدالت میں پیش ہونے سے قبل اس معاملے پر باقاعدہ انکوائری کرانے کا مجاز ہو گا۔ قانون کے تحت کسی بھی مقدمے میں ملوث رکنِ اسمبلی کو اپنی سہولت کے مطابق عدالت میں پیش ہونے کا اختیار حاصل ہو گا، جبکہ اسمبلی اجلاس کے دوران کسی بھی رکن کو عدالت میں پیش ہونے سے مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا، تاہم عدالت ضرورت کے مطابق سماعت ملتوی یا نئی تاریخ مقرر کر سکے گی۔
مراعات اور سفری سہولیات کے حوالے سے قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین اور ان کے شریکِ حیات (SPOUSE) تاحیات "بلیو پاسپورٹ" کے حقدار ہوں گے، جبکہ آفیشل پاسپورٹ کے اجراء کا معاملہ وفاقی قوانین کے مطابق طے پائے گا۔ اس کے علاوہ، اراکینِ اسمبلی کو ملک بھر کے تمام ٹول پلازوں پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا، وہ 8 اسلحہ لائسنس رکھنے کے اہل ہوں گے، اور انہیں 4 ایسی گاڑیاں استعمال کرنے کی قانونی سہولت ہو گی جن پر کالے شیشے (Tinted Windows) نصب ہوں گے۔ اراکین کو سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام کی سہولت بھی دی جائے گی۔
سیکیورٹی کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے ہر رکنِ اسمبلی کو اب لازمی طور پر کیٹیگری "بی" کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، جسے خطرات کی صورت میں بڑھا کر کیٹیگری "اے" کیا جا سکے گا۔ یہ سیکیورٹی پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک بھی مؤثر ہو گی۔ قانون کے تحت اراکینِ اسمبلی کو اپنے حلقہ انتخاب میں عوامی اجلاس بلانے کا اختیار ہو گا، جس میں متعلقہ سرکاری افسر کی شرکت لازمی ہو گی اور بلاجواز عدم شرکت کو اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔