حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا اسمبلی نے صحافیوں پر پابندیوں، قید اور بھاری جرمانوں کا نیا قانون منظور کر لیا۔ Home / سیاست /

خیبر پختونخوا اسمبلی نے صحافیوں پر پابندیوں، قید اور بھاری جرمانوں کا نیا قانون منظور کر لیا۔

ایڈیٹر - 08/07/2026
خیبر پختونخوا اسمبلی نے صحافیوں پر پابندیوں، قید اور بھاری جرمانوں کا نیا قانون منظور کر لیا۔

پشاور  : خیبر پختونخوا اسمبلی نے صحافیوں پر مختلف نوعیت کی پابندیاں، قید اور بھاری جرمانوں پر مشتمل ایک نیا ترمیمی قانون کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے بعد صوبے میں صحافتی و سیاسی حلقوں کے مابین ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس قانون کے تحت تنخواہوں، مراعات اور استثنیٰ کے قوانین کا گزٹڈ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جسے 30 اپریل کو ایک اضافی ایجنڈے کے ذریعے منظور کرایا گیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق اس قانون کو کئی ماہ تک خفیہ رکھا گیا تھا۔

نئے قانون کے مطابق، صوبائی اسمبلی کے سپیکر کو وسیع تر اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔ سپیکر کسی بھی صحافی کو ایوان کی کارروائی کی کوریج سے روکنے اور اسمبلی میں آنے والے مخصوص افراد پر خاص مدت کے لیے پابندی عائد کرنے کا مجاز ہوگا۔ مزید برآں، سپیکر کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ ایوان کی کسی بھی کارروائی کو شائع یا نشر کرنے سے روک دے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص یا صحافی کو 6 ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

قانون میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی صحافی یا میڈیا ادارہ اسمبلی کی کارروائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرے گا، تو اس کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ اس جرم کی پاداش میں صحافی کو 3 سال تک قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اسی طرح، سپیکر پر جانبداری کا الزام لگانے یا سپیکر کے کردار پر تنقید کرنے والے صحافی کو 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی بھی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ٹیبل ہونے سے پہلے میڈیا پر نشر یا شائع کرنے کی صورت میں 3 ماہ قید اور 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ تحریکِ التوا پیش ہونے سے قبل اسے نشر کرنے پر 1 ماہ قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

صحافیوں کے علاوہ، اسمبلی اراکین اور دیگر افراد کے لیے بھی سخت سزائیں متعین کی گئی ہیں۔ نئے قانون کے مطابق، کسی اسمبلی رکن کو دھمکانے، حملہ کرنے یا راستہ روکنے پر 6 ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اسمبلی اجلاس یا کمیٹی میں رکن کی توہین یا کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کو بھی قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ گواہوں کو دھمکانے پر 2 ماہ قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ جعلی دستاویزات یا جھوٹی گواہی دینے پر بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسمبلی ریکارڈ یا طلب کردہ دستاویز کو نقصان پہنچانے پر 6 ماہ قید اور 100,000 روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اسمبلی کمیٹی کے سامنے سوال کا جواب دینے سے انکار پر 2 ماہ قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ اسمبلی کارروائی کی جھوٹی یا مسخ شدہ رپورٹ شائع کرنا بھی جرم تصور ہوگا۔

قانون کے مطابق، اسمبلی کی اجازت کے بغیر کارروائی کا مخصوص مواد شائع نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ ممنوعہ کارروائی شائع کرنے پر 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ سپیکر یا اسمبلی کے خلاف ہتک آمیز مواد اور اراکین کے خلاف جھوٹا یا بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے پر بھی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔ شیڈول کے مطابق، سپیکر کے قانونی احکامات نہ ماننے پر 3 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ بغیر اجازت اسمبلی ہال میں داخل ہونے پر 1 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا۔ قانون میں احاطہ اسمبلی کے اندر غیر مہذب رویے، ہنگامہ آرائی، کارروائی میں خلل ڈالنے، اسلحہ یا دھماکہ خیز مواد لانے اور ارکان یا اسمبلی افسران کو رشوت کی پیشکش کرنے جیسے معاملات پر بھی سخت ترین سزائیں شامل کی گئی ہیں۔