حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
غزہ میں حماس کا تاریخی فیصلہ، دو دہائیوں بعد حکومت ختم، اقتدار نئی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا اعلان Home / بین الاقوامی /

غزہ میں حماس کا تاریخی فیصلہ، دو دہائیوں بعد حکومت ختم، اقتدار نئی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا اعلان

ایڈیٹر - 07/07/2026
غزہ میں حماس کا تاریخی فیصلہ، دو دہائیوں بعد حکومت ختم، اقتدار نئی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا اعلان

غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں تقریباً بیس برس سے قائم اپنی سول حکومت کو ختم کرنے اور انتظامی اختیارات ایک غیر جماعتی ماہرین پر مشتمل نئی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اقتدار کی منظم منتقلی کو یقینی بنانا، عوامی امور کو مؤثر انداز میں چلانا اور اسرائیل کو فوجی کارروائیوں کے لیے کسی بھی ممکنہ جواز سے محروم کرنا ہے۔

حماس کے زیر انتظام میڈیا دفتر کے مطابق ایمرجنسی انتظامیہ کے سربراہ محمد الفرا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ موجودہ ایمرجنسی کمیٹی کو بھی باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے تاکہ تمام انتظامی اختیارات نئی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کو منتقل کیے جا سکیں۔

یاد رہے کہ حماس نے سن 2007 میں غزہ کا انتظام سنبھالا تھا اور اس کے بعد سے علاقے کی سول حکومت چلا رہی تھی۔ اب پہلی مرتبہ تنظیم نے براہِ راست حکومتی امور سے الگ ہونے کا عملی فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ برس جنگ بندی کے بعد حماس متعدد مواقع پر یہ اشارہ دے چکی تھی کہ وہ روزمرہ کی حکمرانی سے دستبردار ہو کر انتظامی معاملات ایک غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ نئی انتظامی کمیٹی اُس امنی ڈھانچے کے تحت تشکیل دی گئی تھی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں جنگ بندی کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کی سربراہی فلسطینی رہنما علی شعث کر رہے ہیں، جبکہ اس کا مقصد غزہ میں سول انتظامیہ کو غیر سیاسی بنیادوں پر چلانا ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تنظیم نے یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور غزہ کے عوام کے مفاد میں کیا ہے۔ ان کے مطابق نئی انتظامیہ کے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی حماس مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ اقتدار کی منتقلی پرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔

ادھر حماس کے عہدیدار اسماعیل الثوابتہ نے کہا ہے کہ جب تک نئی انتظامی کمیٹی غزہ پہنچ کر عملی طور پر کام شروع نہیں کرتی، موجودہ ایمرجنسی کمیٹی عبوری انتظامیہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی تاکہ امن و امان برقرار رہے اور انتظامی خلا پیدا نہ ہو۔

دوسری جانب بین الاقوامی ذرائع کے مطابق نئی انتظامی کمیٹی کے ارکان کو تاحال غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکی، جس کے باعث وہ کئی ماہ سے علاقے سے باہر موجود ہیں اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قاصر ہیں۔

ادھر جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ مکمل ہونے کے باوجود معاہدے کے اگلے مراحل پر پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔ اہم معاملات میں حماس کے ہتھیاروں کا مستقبل، اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا اور غزہ کے سیاسی و انتظامی مستقبل کا تعین شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں اسرائیلی افواج نے غزہ کے وسیع علاقوں میں اپنی عسکری موجودگی مزید بڑھائی ہے، جبکہ حماس کا مؤقف ہے کہ اسلحے سے متعلق کسی بھی حتمی انتظام کو مستقل فلسطینی ریاست کے قیام اور جامع سیاسی حل سے جوڑا جانا چاہیے۔