پشاور : پاکستان پوسٹ نے محکمے کی ری سٹرکچرنگ اور بزنس پلان کے تحت 30 فیصد اسامیاں ختم کرنے اور شدید مالی خسارے کا شکار 20 فیصد ڈاکخانے بند کرنے کی تجاویز کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پوسٹ آفس کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ سابقہ ہدایات کو روکتے ہوئے محکمے کو پائیدار اور منافع بخش بنانے کے لیے ایک نیا وضاحتی ری سٹرکچرنگ اور بزنس پلان جاری کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس سے قبل 11 جون کو پاکستان پوسٹ آفس کی جانب سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے تحت محکمے کی 30 فیصد اسامیاں ختم کرنے اور متعلقہ ملازمین کو سرپلس پول میں بھجوانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی محکمے کو معاشی بوجھ سے بچانے کے لیے 20 فیصد ایسے ڈاکخانوں کی نشان دہی کی گئی تھی جو مسلسل خسارے کا سامنا کر رہے تھے، اور انہیں فوری طور پر بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ تاہم، ڈائریکٹر جنرل پوسٹ آفس نے وسیع تر مفاد میں ان تجاویز پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔
نئے وضاحتی بزنس پلان کے تحت ڈی جی پوسٹ آفس نے محکمے کو موجودہ خسارے کی دلدل سے نکالنے، اسے ایک پائیدار اور منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام اور تمام پوسٹ ماسٹر جنرلز کو باقاعدہ نئی ہدایات بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ محکمے کے ملازمین اور اثاثوں کو مؤثر طریقے سے استعمال کر کے محکمے کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔