حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
فرانسیسی صدر کا دورہ شام کئی ،ہوٹل کے قریب دھماکوں کی آوازیں، احمد الشرع سے اہم ملاقات، نئی حکومت پر دنیا کی نظریں Home / بین الاقوامی /

فرانسیسی صدر کا دورہ شام کئی ،ہوٹل کے قریب دھماکوں کی آوازیں، احمد الشرع سے اہم ملاقات، نئی حکومت پر دنیا کی نظریں

ایڈیٹر - 07/07/2026
فرانسیسی صدر کا دورہ شام کئی ،ہوٹل کے قریب دھماکوں کی آوازیں،  احمد الشرع سے اہم ملاقات، نئی حکومت پر دنیا کی نظریں

دمشق: شام کے دارالحکومت میں اس وقت غیر معمولی سیکیورٹی صورتحال پیدا ہوگئی جب فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے قیام گاہ کے قریب یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے۔ تاہم فرانسیسی حکام نے واضح کیا ہے کہ صدر مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان کے سرکاری پروگرام میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکوں کے بعد سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ علاقے کا محاصرہ کر لیا، متعدد شاہراہیں بند کر دی گئیں اور حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے بعد علاقے سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔

فرانسیسی ایوانِ صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ دھماکوں کا اثر صدارتی قافلے یا صدر ایمانوئیل میکرون کی نقل و حرکت پر نہیں پڑا، نہ ہی انہیں کسی قسم کا سیکیورٹی خطرہ لاحق ہوا۔ صدر نے اپنے تمام طے شدہ سرکاری مصروفیات معمول کے مطابق جاری رکھیں۔

دورے کے دوران ایمانوئیل میکرون نے شام کے صدر احمد الشرع سے صدارتی محل میں اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، شام کی بدلتی سیاسی صورتحال، علاقائی استحکام اور مستقبل کے تعاون سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شامی سرکاری ذرائع نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

یہ دورہ اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ نئی شامی قیادت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایمانوئیل میکرون کسی یورپی ملک کے پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے دمشق کا سرکاری دورہ کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت شام کی عالمی سطح پر سفارتی تنہائی ختم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ احمد الشرع کی قیادت میں مسلح گروپوں نے گزشتہ برس بشار الاسد کی کئی دہائیوں پر محیط حکومت کا خاتمہ کیا تھا، جس کے بعد ملک میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوا۔ نئی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تمام سیاسی، مذہبی اور نسلی طبقات کو ساتھ لے کر چلنے اور جامع نظامِ حکومت قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اگرچہ نئی قیادت بین الاقوامی برادری سے تعلقات بہتر بنانے اور جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیرِ نو کے لیے سرگرم ہے، تاہم اسے داخلی سلامتی، مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی اور فرقہ وارانہ کشیدگی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیرہ برس تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد شام میں پائیدار امن کا قیام نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں مختلف علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے حکومت کے اتحاد، شمولیت اور استحکام کے دعوؤں کو بھی کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔