پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کے نرخ برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قابلِ افسوس قرار دیا ہے۔ پشاور سے جاری کردہ خصوصی اخباری رپورٹ کے مطابق، سینیٹر ایمل ولی خان نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں، لیکن اس کا فائدہ عوام کو منتقل نہ کرنا حکومت کی بدترین بے حسی کا ثبوت ہے۔
مرکزی صدر اے این پی کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے شاہ خرچوں کو پورا کرنے کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک نے جنگی حالات کے دوران بھی اپنی عوام کو ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت اشرافیہ کی نمائندہ ہے جسے عوام کی کوئی پرواہ نہیں، بلکہ ان کے تمام فیصلے مخصوص طبقوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہوتے ہیں۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں نچلی ترین سطح پر ہونے کے باوجود ریلیف روکنا سراسر ناانصافی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تیل کمپنیوں کے مفاد کو عوام پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہرے معیارات ختم کر کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کا اعلان کیا جائے تاکہ مہنگائی کے ستائے شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔