لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے انتہائی تباہ کن دہرے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے بعد انسانی ضروریات اور بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی حکام اور عالمی امدادی اداروں کے مطابق اب تک زلزلے کے باعث 235 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ملبے تلے دبے سیکڑوں شہریوں کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے خبردار کیا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے اس ہولناک زلزلے سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 68 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 41 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا بتائے جا رہے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کی علاقائی ڈائریکٹر لوئز بیسے نے ہنگامی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد ملک کا کوئی بھی نظام پہلے کی طرح کام نہیں کر رہا۔ متاثرہ علاقوں میں لوگ شدید خوف کا شکار ہیں اور خستہ حال عمارتوں میں واپس جانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ دوسری جانب پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن (پی اے ایچ او) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سیرو اوگارٹے کے مطابق، دشوار گزار راستوں کے باعث طبی عملے کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ہسپتالوں پر زخمیوں کا دباؤ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے زلزلے کے باوجود ملک میں انٹرنیٹ پر عائد حکومتی پابندیوں کی تصدیق کی ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ معلومات تک رسائی اور امدادی کاموں میں تیزی لانے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع سے فوری طور پر پابندیاں ہٹائی جائیں۔