اسلام آباد: وفاقی حکومت نے توانائی کے بحران پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پڑوسی ملک ایران سے سستا تیل اور گیس خریدنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حکومت کسی بھی قسم کے بیرونی یا سیاسی دباؤ میں آئے بغیر صرف میرٹ اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں گے اور اگر قیمتیں کم ہوئیں تو ایل این جی کی خریداری یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم نے واضح کیا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جہاں حکومت کیس کی بھرپور پیروی کر رہی ہے اور اس معاملے کو ایران کے ساتھ مل کر خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ملک میں آر ایل این جی (RLNG) کے نئے کنکشنز بھی جلد کھول دیے جائیں گے۔ پٹرول کی قیمتوں پر گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت جیسے ہی 76 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آئے گی، عوام کو پٹرول پمپس پر فوری ریلیف منتقل کر دیا جائے گا اور اس میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے 130 ارب روپے کی بھاری سبسڈی دی گئی ہے جس سے موٹر سائیکل، ریلوے اور ٹرک مالکان کو براہِ راست فائدہ پہنچا ہے۔