لاہور: پاکستان کے سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کی حالیہ پٹرولیم پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھ کر حکومت نے صرف خود فائدہ اٹھایا ہے۔ لاہور سے جاری میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک حالیہ انٹرویو میں سابق وزیرِ خزانہ نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ قیمتوں میں کمی نہ کرنے کے فیصلے سے حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو براہِ راست فائدہ پہنچایا ہے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ یا مقامی صورتحال کے مطابق حکومت کے پاس قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی واضح گنجائش موجود تھی، تاہم اس گنجائش کے باوجود عوام کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس وقت ملک میں پٹرول کی مجموعی قیمت میں سے تقریباً ایک تہائی (ون تھرڈ) حصہ خالصتاً حکومت کا ہے جو ٹیکسز اور لیوی کی صورت میں وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس معاشی پالیسی کا بوجھ عام آدمی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔