پاکستانی معاشرے میں خواتین کے وراثتی حقوق کا مسئلہ محض ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور مذہبی مسئلہ بھی ہے۔ اگرچہ ملکی قوانین اور اسلامی تعلیمات خواتین کو وراثت میں واضح اور متعین حصہ فراہم کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر آج بھی بہت سی خواتین اپنے جائز حق سے محروم رہ جاتی ہیں۔
حالیہ عدالتی فیصلوں نے ایک بار پھر اس مسئلے کو قومی سطح پر زیر بحث لا کھڑا کیا ہے۔ عدالتوں نے واضح کیا ہے کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنا نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ یہ موقف اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ وراثت میں خواتین کا حق کسی فرد، خاندان یا ریاست کی عطا کردہ سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی اور مسلمہ حق ہے۔ جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں کئی سماجی اور ثقافتی عوامل خواتین کی وراثت تک رسائی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ بیٹی کو شادی کے وقت جہیز مل چکا ہے، اس لیے اسے جائیداد میں حصہ نہیں ملنا چاہیے۔ کہیں خاندانی دباؤ کے تحت خواتین سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروائے جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات خواتین قانونی پیچیدگیوں، مالی وسائل کی کمی یا سماجی دباؤ کے باعث اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا پاتیں۔
اسلام نے چودہ سو سال قبل خواتین کو وراثت کا حق دیا، جب دنیا کے بیشتر معاشروں میں خواتین کو جائیداد میں حصہ دار تسلیم ہی نہیں کیا جاتا تھا۔ قرآن مجید میں وراثت کے حصص کی واضح وضاحت موجود ہے اور مردوں کے ساتھ خواتین کے حصے کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کسی خاتون کو اس کے وراثتی حق سے محروم کرنا ایک سنگین ناانصافی تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں۔ عدالتیں متعدد مواقع پر ایسے فیصلے دے چکی ہیں جن میں خواتین کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے جائیداد کی تقسیم کا حکم دیا گیا۔ تاہم قانون کی موجودگی کے باوجود عوامی آگاہی کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سی خواتین اپنے قانونی حقوق اور دستیاب عدالتی راستوں سے واقف نہیں ہوتیں۔
خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے صرف عدالتوں اور حکومتی اداروں پر انحصار کافی نہیں۔ اس حوالے سے علماء، اساتذہ، میڈیا، سماجی تنظیموں اور خاندانوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرے میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وراثت میں حصہ دینا احسان نہیں بلکہ ایک قانونی اور شرعی ذمہ داری ہے۔
خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق دینا صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ معاشرتی انصاف کا بنیادی اصول بھی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنی خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے، وہ ترقی، مساوات اور انصاف کے دعووں کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ وراثت کے معاملے میں روایات اور سماجی دباؤ کے بجائے قانون، انصاف اور اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے تاکہ خواتین کو ان کا حق عزت اور وقار کے ساتھ مل سکے۔