واشنگٹن / اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کا مکمل 14 نکاتی متن منظرعام پر آگیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے مفاہمتی دستاویز کی تفصیلات جاری کی ہیں، جن میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ مذاکرات کا فریم ورک شامل ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
• امریکا، ایران اور ان کے اتحادی موجودہ جنگ کے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کریں گے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ تمام فریق آئندہ ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائی، جنگ، طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں گے، جبکہ لبنان کی مکمل خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی۔
• امریکا اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
• دونوں ممالک 60 دن کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کی مدت باہمی رضامندی سے بڑھائی جا سکے گی۔
• مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد امریکا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور اسے 30 دن کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
• اس عرصے کے دوران جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے والی معمول کی سطح پر بحال کیا جائے گا۔
• حتمی معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد امریکا 30 دن کے اندر ایران کے قریب تعینات اپنی فوجی موجودگی اور افواج کو واپس بلائے گا۔
• ایران دستخط کے بعد 60 روز تک خلیج فارس سے خلیج عمان تک تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔
• ایران 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز اور اطراف میں موجود تمام تکنیکی و عسکری رکاوٹیں دور کرے گا اور بارودی سرنگوں کو ہٹائے گا۔
• ایران اور سلطنت عمان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سکیورٹی نظام پر مشاورت کریں گے۔
• امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے اقتصادی پروگرام پر کام کرے گا، جس کا طریقہ کار 60 دن میں طے کیا جائے گا۔
• امریکا ایران پر عائد تمام بین الاقوامی اور یکطرفہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے متفقہ شیڈول پر عمل کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور امریکی پابندیاں شامل ہیں۔
• ایران نے دوبارہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا، جبکہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں دونوں ممالک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں متفقہ طریقہ کار طے کریں گے۔
• حتمی معاہدے تک ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ سطح برقرار رکھے گا، جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور اضافی فوجی دستے بھی تعینات نہیں کرے گا۔
• دستخط کے فوراً بعد امریکی محکمہ خزانہ ایرانی تیل، پیٹرولیم مصنوعات، بینکاری، انشورنس، شپنگ اور ٹرانسپورٹ سے متعلق خصوصی اجازت نامے جاری کرے گا، جبکہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی بحال کرے گا۔ معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ نظام قائم کیا جائے گا اور حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے ذریعے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام اور ایران و امریکا تعلقات میں ایک نئی پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہے۔