ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال کے خلاف مقامی قبائلی اقوام نے کر کے ایک انتہائی سخت اور مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ خیبر تکیہ کے مقام پر نیکی خیل، سلطان خیل اور دیگر مقامی قبائل کا ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں بدامنی کی حالیہ لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن قائم ہونے تک وسیع پیمانے پر سول نافرمانی اور بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق، جرگے نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ علاقے میں مکمل امن و امان کے قیام تک تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہیں گے۔ اس کے علاوہ، قبائل نے انسدادِ پولیو مہم کا مکمل بائیکاٹ کرنے اور روڈ پر احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ جرگے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے سخت شرائط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی جرگوں میں پولیس اہلکار باوردی شرکت نہیں کریں گے۔ مزید برآں، زراعت، جنگلات اور دیگر تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کو اپنی ڈیوٹیوں پر نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ پشاور سے آنے والے موٹر سائیکل سوار آئس کریم فروشوں کے داخلے پر بھی فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ جب تک ریاست شہریوں کے تحفظ کو یقینی نہیں بناتی، احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔