عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی جانب سے ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ اور رعائیتیں ختم کرنے کے سخت مطالبے پر وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اسٹیشنری مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) میں 8 فیصد اضافے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز پر عملدرآمد کی صورت میں ملک بھر میں تعلیمی اور دفتری اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ مالیاتی بجٹ میں اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح کو 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا قوی امکان ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کے نتیجے میں اسکولوں اور دفاتر میں عام استعمال ہونے والی بنیادی اشیاء بشمول کاپیاں، رجسٹر، قلم، پنسل اور سیاہی سمیت سب کچھ مہنگا ہو جائے گا، جبکہ دیگر تعلیمی و دفتری استعمال کا سامان بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام تجاویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری اور پارلیمانی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ بجٹ میں جو بھی فیصلہ طے پایا، اس کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا۔