جنیوا: عالمی موسمیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال ال نینو کے دوبارہ فعال ہونے کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں کو شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل کے استوائی علاقوں میں سمندری پانی کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، جو ال نینو کی تشکیل کی واضح علامت سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران اس موسمی رجحان کے فعال ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ سال کے اختتام تک یہ شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو عالمی سطح پر بارشوں، ہواؤں اور درجہ حرارت کے معمولات کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض خطوں میں شدید خشک سالی جبکہ دیگر علاقوں میں غیر معمولی بارشیں اور سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم نے حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ممکنہ موسمی اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمتِ عملی اختیار کریں۔ ادارے کے مطابق زمینی و سمندری ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے چیلنجز مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کیا ہے کہ ال نینو کے ممکنہ اثرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس کے نتائج پہلے سے زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ مہینوں کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ بعض خطوں میں بارشوں میں کمی جبکہ دیگر علاقوں میں شدید موسمی بے ترتیبی دیکھی جا سکتی ہے، جس کے اثرات زراعت، آبی وسائل، توانائی اور صحتِ عامہ کے شعبوں پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔